پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

خدا کا شکر کیوں؟

datetime 6  جون‬‮  2017 |

وہ جون کی ایک تپتی ہوئی دوپہر تھی جب احمد ایم اے کا امتحان دینے کے لئے گھر سے نکلا۔ راستے میں گرم ہوا کے تھپیڑے اس کے بدن سے ٹکرا رہے تھے گویا کہ تندور کی آگ ہو۔ جب وہ امتحان گاہ پہنچا تو ایک اور مصیبت سر پر آن پڑی۔ منتظمین نے امتحان دینے کا انتظام ایک ٹینٹ میں کر رکھا تھا جس میں نہ کوئی پنکھا تھا اور نہ ہی کوئی کنکریٹ کی دیوار جو اسے گرمی کی شدت سے بچا سکے۔

چار و ناچار وہ اسی ماحول میں امتحان دینے کے لئے بیٹھا تو کچھ دیر بعد ہی بدن پسینے سے شرابور ہوگیا۔ اس نے امتحان لینے والے ایک ممتحن سے شکایت کی تو جواب ملا۔’’میاں امتحان دینے کے لئے ایک امتحانی پرچے اور بیٹھنے کی جگہ کا ہونا کافی ہے۔ اب ہم تمہارے لئے یہاں اے سی لگوانے سے تو رہے‘‘۔ بہرحا ل کسی طرح احمد نے وہ پرچہ حل کیا اور ایک ناگوار تاثر کے ساتھ وہ واپس گھر لوٹ گیا۔دوسرے دن وہ سو کر اٹھا تو اس کے والد نے پوچھا۔’’بیٹا پرچہ کیسا ہوا؟‘‘ ’’پرچہ تو اچھا حل ہوگیا لیکن ماحول انتہائی ناسازگار تھا‘‘۔احمد نے جواب دیا۔’’چلو بیٹا کوئی بات نہیں۔ اللہ کو شکر ادا کرو‘‘۔والد نے جواب دیا۔’’اللہ کا شکر کیوں؟ آخر آپ ہر بات میں یہ کیوں کہتے رہتے ہیں کہ اللہ کا شکر ادا کرو؟‘‘ احمد جھلائے ہوئے لہجے میں بولا۔ ’’بیٹا اللہ کا شکر اس لئے کہ وہی ہے جو تما م اچھائیوں کا منبع ہے۔ ہمیں جو بھی بھلائی پہنچتی ہے اسی کے اذن سے پہنچتی ہے۔ وہی خالق ہے جس نے تمہیں بھوک میں کھلایا، پیاس بجھانے کے لئے پانی دیا، تھکاوٹ دور کرنے کے لئے نیند عطا کی، معاش کی سرگرمیوں کے لئے سورج کی روشنی دی، نفسیاتی و جنسی راحت کے لئے خاندان بنایا۔ پس اس کے احسانات کو مانو اور اس کا شکر ادا کرو۔‘‘ ابھی لیکچر جاری تھا کہ احمد بات کاٹتے ہوئے بولا: اگر خدا نے یہ نعمتیں دیں تو کونسا احسان کیا۔ آخر بھوک بھی تو اسی نے پیدا کی،

پیاس کا تقاضا اسی نے پیدا کیا، تھکن کی شدت اسی نے بنائی۔ جنسی تقاضا بھی تو اسی نے فطرت میں رکھا۔ تو جب یہ تقاضے اس نے پیدا کردیے تو اب یہ اس خدا کی ذمہ داری ہے وہ ان کو پورا کرنے کے لئے اپنی نعمتیں نازل کرے۔ اس میں شکر گذاری کہاں سے آ گئی۔والد اس کی بات سن کر مسکرائے اور کچھ سوچتے ہوئے بولے۔خدا نے یہ کائنات کھانے، پینے، سونے، جاگنے اور کمانے کے لئے نہیں بنائی بلکہ آزمائش کے لئے بنائی ہے۔

آزمائش کے لئے یہ سارے تقاضے پیدا کئے اور ان کو پورا کرنے کے لئے اپنی نعمتیں نازل فرمائیں۔ آزمائش کا تقاضا پورا کرنے کے لئے یہ کافی تھا کہ انسان کو ارادے کی قوت اور ایک لنگڑا لولا سا دھڑ دے دیا جاتا اور پھر اس کو آزمایا جاتا کہ وہ کس طرح مختلف حالات میں اپنے رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔ احمد اپنے والد کی بات کو غور سے سن رہا تھاکیونکہ اسے کل ممتحن کی کہی ہوئی بات یاد آ رہی تھی کہ امتحان لینے کے لیے ہمارے ذمہ صرف امتحانی پرچہ فراہم کرنا اور جگہ کا بندوبست کرنا ہے جبکہ ارد گرد کے ماحول کی سازگاری ہماری ذمہ داری نہیں۔

والد نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہااس کے باوجود خدا نے آزمائش کے لئے انتہائی سازگار ماحول تیار کیا اور اسے اپنی نعمتوں سے بھر دیا تاکہ انسان کو اس امتحانی عمل میں کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ چنانچہ وہ چاہتا تو سب کو اندھا پیدا کر دیتا یا لنگڑا لولا بنا دیتا یا انہیں کسی بیماری میں مبتلا رکھتا۔ لیکن اس نے انسانوں کی اکثریت کو صحت عطا کی اور انہیں کسی معذوری سے محفوظ رکھا۔ چنانچہ اس کا شکر اس بات کا کہ اس نے امتحان لینے کے عمل میں انتہائی سازگار ماحول بنایا۔

احمد اتنی آسانی سے ہار ماننے والا نہ تھا چنانچہ اس نے کہا لیکن کیا یہ خدا کی اخلاقی ذمہ داری نہ تھی کہ وہ انسان کو آزمائش کے لئے ایک سازگار ماحول فراہم کرتا، اسے صحت دیتا، اس کے کھانے پینے، سونے جاگنے، نشوونما کرنے اور دیگر ضروریات کو پورا کرتا؟ والد صاحب اس کی بات سن کر مسکرائے اور بولے۔ایسا نہیں ہے۔ یہ خدا کی اخلاقی ذمہ داری نہیں کہ وہ امتحان لینے کی غرض سے اپنی نعمتیں اپنے بندوں پر اتار دے۔

بھوک دینے کے بعد اسے مٹانے کی ذمہ داری تو خدا کی ہے اور یہ ذمہ داری جانوروں کے چارے جیسی کسی غذا سے بھی پوری ہوسکتی تھی لیکن اس نے طرح طرح کے کھانے پیدا کردیے۔ اسی طرح پیاس بجھانے کے لئے انواع و اقسام کے مشروبات بنائے۔ نیند کے لئے سورج کو غروب کردیا وگرنہ وہ چاہتا تو دھوپ میں ہی انسان کو سونے کی آزمائش میں مبتلا کر دیتا۔ مزید یہ کہ اس نے کچھ انسانوں کو معذور بنا کر یا غذا سے محروم رکھ کر یہ دکھا دیا کہ آزمائش اس طرح بھی ہوسکتی ہے۔

احمد ہتھیار ڈالنے سے پہلے ایک اور موقع حاصل کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ وہ گویا ہوا۔لیکن آج کا انسان تو یہ سمجھتا ہے کہ اسے جو یہ نعمت حاصل ہوتی ہے وہ اسکی اپنی محنت سے حاصل ہوتی ہے یا پھر اس کے کچھ مادی اسباب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر انسان گندم کا بیج زمین میں بوتا ہے، اسے پانی دیتا اور پھر گندم کو پیدا کرکے اپنے استعمال میں لاتا ہے۔ اس میں خدا کا کیا رول ہے؟ والد صاحب نے تشویش ناک انداز میں اپنے بیٹے کو دیکھا اور بولے۔

بیٹا انسان کی یہی غلط فہمی ہے کہ وہ یا تو خود کو یا پھر مادی اسباب کو ان نعمتوں کے حصول کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ اگر انسان نے گندم کا بیج زمین میں بویا تو یہ بونا کس نے سکھایا؟ کس نے پانی دینے کی تعلیم دی؟ کس نے گندم کے بیج کو پھاڑ کر کونپل کو پیدا کیا؟ کس نے ایک بیج سے ہزاروں گندم کے دانے بنائے؟ کیا انسان یہ نہیں دیکھتا کہ سارے مادی اسباب خدا نے بنائے ہیں۔ سورج کو کام پر اس نے لگایا، زمین کی گردش اس نے پیدا کی، آسمان کو تاروں سے اس نے سجایا،

ہوا میں آکسیجن اس نے تیار کی، پانی میں پیاس بجھانے کی تاثیر اس نے رکھی۔ لیکن آج کا بدنصیب انسان یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں کیونکہ وہ اندھا ہے اس کی آنکھیں اسباب کے پیچھے خدا کا ہاتھ نہیں دیکھ پا رہیں۔ وہ بہرا ہے اسکے کان خدا کی آواز نہیں سن پا رہے۔ لیکن اس مصنوعی اندھے اور بہرے پن کے باوجود خدا کے حقیقی بندے دیدہ بینا بھی رکھتے ہیں اور سننے والے کان بھی۔ پس خدا تعریف کے لائق ہے کیونکہ وہ ہر خیر کا منبع ہے۔ اس نے انسان کو آزمائش کے لئے پیدا کرنے کے باوجود اپنی ان گنت نعمتوں سے سرفراز کیا اور امتحان کے لئے ایک سازگار ماحول پیدا کیا تاکہ اس کے بندے اسے پہچانیں، اسکی معرفت حاصل کریں اور اس کے شکر گزار بن کر رہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…