دو بھائیوں کو جیب خرچ کے لئے گھر سے ایک ایک پیسہ روز مل جایا کرتا تھا۔ چھوٹے کی تو عادت تھی کہ کبھی خرچ کرتا اور کبھی اسے صندوق میں ڈال دیتا جو مدرسے میں غریب بچوں کی امداد کے لئے رکھا رہتا تھا۔ بڑے بھائی کی یہ حالت تھی کہ جب مدرسے میں کھیلنے کی چھٹی ہوتی تو وہ مدرسے کے مٹھائی والے کی دکان پر چلا جاتا۔
بھلا اس کی رنگا رنگ مٹھائیوں کے سامنے اس کا ایک پیسہ کیا چیز تھا۔ دس پندرہ دن تو اس نے اس طرح گزارا کیا کہ آج لڈو لے لئے تو کل بالو شاہی۔ ایک دن جلیبیاں تو دوسرے دن برفی۔ مگر اس سے تسلی کب ہوتی؟ اس نے ادھار لینا شروع کیا تو چند روز میں دو روپے اس کے ذمہ ہو گئے۔ دکاندار نے روپے مانگے تو یہ گھبرایا کہ ماں باپ کی آمدنی زیادہ نہ ہونے کے باعث پیسے کے نہ ملنے کی امید تو کیا الٹا مار پڑنے کا ڈر تھا۔ آخر ایک دن دکاندار نے اس کا بستہ چھین لیا اور کہا کہ روپے دو گے تو بستہ دوں گا۔ اس پر دوسرے دن اسے مدرسے سے غیر حاضر ہونا پڑا۔ چھوٹے کو خبر ملی تو اس نے پہلے تو بڑے بھائی کو سمجھایا۔ پھر دکاندار کی منت کی کہ اس کا بستہ دے دو۔ آج سے دو پیسے روز دے کر میں تمہاری رقم چکا دوں گا۔ چنانچہ دکاندار نے بستہ دے دیا۔ چھوٹا لڑکا بڑے بھائی کا اور اپنا ملا کر دونوں کے دونوں پیسے دکاندار کو دے دیتا۔ اس طرح دو مہینے میں یہ قرض اتر گیا اور ساتھ ہی بڑے کو بھی کفایت کی عادت پڑ گئی۔ چنانچہ اس کے بعد پھر اس نے کبھی قرض نہ لیا۔



















































