’’ کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اسکی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے؟ کیوں نہیں؟ ہم تو اسکی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں۔القرآن‘‘ کفاراور ملحدین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص مرجانے کے بعد مٹی میں مل جاتا ہے اور اس کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو جاتی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ قیامت کے روز اُس کے جسم کا ایک ایک ذرہ دوبارہ یکجا ہو کر پہلے والی(زندہ) حالت میں واپس آجائے۔۔۔
اور اگر ایسا ہو بھی گیا تو روزِ محشر اس شخص کی ٹھیک ٹھیک شناخت کیونکر ہو گی؟ اللہ تعالیٰ رب ذوالجلال نے مذکورہ بالا آیات مبارکہ میں اسی اعتراض کا بہت واضح جواب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ (اللہ تعالیٰ) صرف اسی پر قدرت نہیں رکھتا کہ ریزہ ریزہ ہڈیوں کو واپس یکجا کر دے بلکہ اس پر بھی قادر ہے کہ ہماری انگلیوں کی پوروں تک کو دوبارہ سے پہلے والی حالت میں ٹھیک ٹھیک طور لے آئے۔ سوال یہ ہے کہ جب قرآن پاک انسانوں کی انفرادی شناخت کی بات کر رہا ہے تو انگلیوں کی پوروں کا خصوصیت سے تذکرہ کیوں کر رہا ہے؟ سرفرانسس گولڈ کی تحقیق کے بعد نشانات انگشت (finger prints) کو شناخت کے سائنسی طریقے کا درجہ حاصل ہوا۔ آج ہم یہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں کوئی سے بھی دو افراد کی انگلیوں کے نشانات کا نمونہ بالکل ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔ حتٰی کہ ہم شکل جڑواں افراد کا بھی نہیں یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں مجرموں کی شنا خت کے لیے ان کے نشاناتِ ا نگشت ہی استعمال کیے جا تے ہیں۔کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ آج سے صدیوں سال پہلے کسی کو نشانات انگشت کی انفرادیت کے بارے میں معلوم تھا؟ یقیناً یہ علم رکھنے والی ذات اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کی نہیں ہو سکتی تھی۔



















































