سلطان روم جو عیسائی تھا ہر سال ہارون الرشید کو کچھ مال بھیجا کرتا تھا‘ اس نے ایک سال یہ حیلہ کیا کہ چند راہبوں کو پیغام دے کر یہ کہلا بھیجا کہ ان عیسائی راہبوں سے اگر آپ کے علماءبحث کریں تو اور ان پر غالب آ جائیں تو مال مقررہ برابر دیتا رہوں گا
ورنہ نہیں چنانچہ جب یہ راہب ہارون الرشید کے پاس پہنچے تو ہارون الرشید نے دجلے کے کنارے پر علماءاسلام کو جمع کیا اور ان راہبوں کو بھی وہاں بلایا‘ اتنے میں حضرت امام شافعیؒ بھی تشریف لے آئے اور ہارون الرشید نے آپ سے التجا کی کہ ان راہبوں سے آپ بحث کریں۔حضرت امام شافعیؒ نے یہ سن کر اپنا مصلیٰ کندھے سے اتار کر دریا کے پانی کے اوپر بچھا دیا اور اس پر جا بیٹھے اور فرمایا کہ جو شخص ہم سے بحث کرنا چاہتا ہے وہ یہاں آ کر بیٹھ ہم سے بحث کرے۔ راہبوں نے جب یہ حال دیکھا تو سب کے سب مسلمان ہو گئے۔سلطان روم کو جب یہ خبر پہنچی کہ وہ سارے راہب امام شافعیؒ کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے ہیں تو کہنے لگا شکر ہے کہ وہ امام یہاں نہیں آیا اگر یہاں آ جاتا تو سارا روم مسلمان ہو جاتا۔اللہ والوں کی بڑی شان ہوتی ہے اور ان کے فیوض وبرکات کی یہ شان ہے کہ ان کی عظمت شان کو دیکھ کر ہی کوئی لوگ مسلمان ہو جاتے ہیں۔



















































