دو نابینا پائلٹ جنہوں نے گہرے رنگ کے چشمے لگائے ہوئے ہیں جہاز میں داخل ہوتے ہیں ، ایک نے رہنمائی کرنے والے تربیت یافتہ کتے کی رسی تھامی ہوئی ہے جبکہ دوسرے کے ہاتھ میں نابیناوں والی مخصوص چھڑی ہے جسے وہ دائیں بائیں مار کر رستے کا اندازہ کر رہا ہے‘ انہیں کاک پٹ کی طرف جاتے دیکھ کر جہاز میں بیٹھے مسافروں نے نہایت ہی نروس انداز میں قہقہہ لگایا تاہم دونوں پائلٹ کاک پٹ میں داخل ہوگئے اور کاک پٹ کا دروازہ بند ہوگیا‘
مسافروں میں ہیجان پھیلنا شروع ہوگیا اور وہ بے چینی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ،کچھ کے ذہن میں تھا کہ شاید یہ انکے ساتھ ائیر لائن کی طرف سے مذاق کیا جا رہا ہے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگے کہ شاید ابھی انکے لیے کوئی اشارہ یا ہدایات لکھی ہوئی ہو‘اتنی دیر میں جہاز کے انجن سٹارٹ ہوگئے اور جہاز رن وے پر ڈورنا شروع ہوگیا ، کچھ لوگوں کی دبی دبی چیخ نکل گئی‘ کھڑکیوں والے مسافر گھبرا کر باہر جھانکنے لگ گئے، جہاز کی رفتار تیز ہوگئی اور وہ رن وے کے آخری سرے کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا،سب مسافر جانتے تھے کہ اس رن وے کے اختتام پر سمندر ہے اور اگر جہاز اسی طرح دوڑتا رہا تو سمندر میں ضرور گرے گا ، جب سمندر سے فاصلہ بہت کم رہ گیا اور جہاز فضا میں بلند نہ ہوا تو تمام مسافر خوف اور دہشت سے بری طرح چیخ اٹھے،اسی لمحے طیارہ فضا میں بلند ہوگیا اور تمام مسافر کھسیانی سی ہنسی ہنسے لگ گئے تاہم جب انہوں نے طیارہ بلند ہونے کے بعد اپنے آپ کو محفوظ ہاتھوں میں خیال کیا تو وہ مطمئن ہوگئے اور رسائل کے مطالعے یا ٹی وی دیکھنے میں مشغول ہوگئے‘کاک پٹ کے اندر ایک پائلٹ نے دوسرے سے کہا کہ یار آج یہ مسافر دیر سے نہیں چیخے ، دوسرے نے کہا بالکل اور مجھے لگتا ہے کہ جس طرح اب یہ چیخنے میں دیر کرنے لگ گئے ہیں تو یہ کسی دن اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی کیا ہم عوام کا حال بھی اس جہاز کے مسافروں کی طرح نہیں ہے۔؟ذرا سوچئے گا ضرور۔مروائیں گے۔



















































