لڑکا اور لڑکی دونوں بحری جہاز کے عرشے پر ٹہل رہے تھے‘دونوں پاکستانی تھے‘دونوں کا تعلق پاکستان کے ایلیٹ طبقے سے تھا‘سمندر کی سیرکےلئے کالج کا گروپ بحری جہاز پر سوار تھا‘ وہ دونوں کالج گروپ سے الگ تھلگ جہاز کے عرشے پر ٹہلتے ہوئے باتیں کر رہے ہیں‘
وہ جب چلتے چلتے تھک گئے تو قریب ہی پڑے ایک بینچ پر بیٹھ گئے‘ بحری جہاز سمندر میں موجوں کو چیرتا ہوا رواں دواں تھا‘ لڑکا اپنی وفا کا یقین دلا رہا تھا لیکن لڑکی تذبذب کا شکار تھی‘ اسے کبھی لڑکے کی باتوں پر یقین آ جاتا اورکبھی اسے لگتا کہ شاید یہ لڑکا مجھے بے وقوف بنا رہا ہے‘ لڑکابار بار کہہ رہا تھا‘ تم ہی میری امید ہو‘ میں تمہارے بغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا‘ لڑکی کچھ دیر خاموشی سے لڑکے کی باتیں سنتی رہی۔لڑکی اچانک بینچ سے اٹھی اور جہاز کے کنارے پر آ کر کھڑی ہوگئی‘ لڑکا بھی اس کے پیچھے آگیا‘ لڑکی نے لڑکے سے پوچھا‘ تم میرا ساتھ کب تک چاہتے ہو؟ لڑکے نے لڑکی کی آنکھوں میں دیکھا‘لڑکے کی آنکھوں سے آنسو کا قطرہ نکلا اور سمندر میں گر گیا‘ لڑکے نے کہا جب تک تم اس آنسو کے قطرے کو ڈھونڈ نہ لو میں اس وقت تک تمہارا ساتھ چاہتا ہوں‘ لڑکے کے اس جملے پر سمندر بھی رو دیا اور بولا ”اے پاکستانیوں! تم اتنی فنکاریاں کہاں سے سیکھ آتے ہو“۔



















































