پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیوی کی محبت

datetime 5  جون‬‮  2017 |

کوہِ طور پر تجلیِ الہٰیہ کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود جو بھی آپ کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا تو اُس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے عرض کیا کہ “مجھے ایسا نقاب عطا فرمائیے جو اِس قوی نُور کا ستر بن جائے اور مخلوق کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔”

حکم ہوا کہ “اپنے اُس کمبل کا نقاب بنا لیجئےجو کوہِ طُور پر آپ (علیہ السلام) کے جسم پر تھا۔ جس نے طُور کی تجلی کا تحمل کیا ہُوا ہے۔ اے موسیٰ.! اُس کمبل کے علاوہ اگر کوہ قاف بھی آپ کے چہرے کی تجلی بند کرنے کو آ جائے تو وہ بھی مثلِ کوہِ طُور پھٹ جائے گا۔” الغرض موسیٰ علیہ السلام نے بغیر نقاب کے خلائق کو اپنا چہرہ دیکھنے سے منع فرما دیا۔ آپ علیہ السلام کی اہلیہ حضرت صفورا آپ کے حُسنِ نبوت پر عاشق تھیں۔ اب جب نقاب نظروں کے درمیان حائل ہو گیا تو آپ بےچین ہو گئیں۔ جب صبر کے مقام پر عشق نے آگ رکھ دی تو آپ نے اِسی شوق اور بےتابی سے پہلے ایک آنکھ سے موسیٰ علیہ السلام کے چہرے کے نُور کو دیکھا اور اِس سے اُن کی ایک آنکھ کی بینائی سلب ہو گئی۔ اِس کے بعد بھی آپ کو صبر نہ آیا, دل اور آنکھوں کی طلب اور بڑھ گئی۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرے پر نظارہِ تجلیاتِ طُور دیکھنے کے لئے دوسری آنکھ بھی کھول دی اور اُس کی بھی بینائی سلب ہو گئی۔ عاشقہِ صادقہ حضرت صفورا سے ایک عورت نے پوچھا “کیا تمہیں اپنی آنکھوں کے بےنُور ہو جانے پر کچھ حسرت و غم ہُوا ہے۔؟” تو آپ نے فرمایا “مجھے تو یہ حسرت ہے کہ ایسی سو ہزار آنکھیں اور بھی عطا ہو جائیں تو میں اُن سب کو محبوب کے چہرہِ تاباں کو دیکھنے میں قربان کر دیتی۔ میری آنکھوں کا نُور تو چلا گیا مگر آنکھوں کے حلقے کے ویرانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرے کا خاص نُور سما گیا ہے۔”

حق تعالیٰ کو حضرت صفورا کی یہ سچی چاہت, تڑپ, یہ کلام, یہ مقامِ عشق اور دل و نظر کی طلب پسند آ گئی۔ خزانہِ غیب سے پھر اُن کی آنکھوں کو ایسی بینائی کا نُور اور تحمل بخش دیا گیا جس سے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہِ تاباں کو دیکھا کرتی تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…