پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

کوئی بھی چیز بغیر مقصد کے نہیں

datetime 3  جون‬‮  2017 |

ایک تپتے ہوئے صحرا میں ایک تنِ تنہا درخت تھا جو صحرا میں آگ برساتی دھوپ کے باوجود اپنی زندگی کے ایام بخوبی پورے کر رہا تھا۔ صحرا میں اس درخت اور تپتی ہوئی ریت کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا۔ ایک دن ایک عقاب اس درخت کی ایک شاخ پر آکر بیٹھ گیا۔وہ درخت کو اتنے بڑے صحرا میں اکیلادیکھ کر حیرت کا شکار ہوا کہ اس اکیلے درخت کا یہاں کیا کام۔۔چنانچہ اس نے درخت سے سوال کیا، کہ تمہیں اس دہکتی ریت پررہنے میں کیا دلچسپی ہے؟یہاں تمہاری ضرورت کس کو ہے؟ درخت نے جواب دیا:

تمہیں ضرورت ہے میری۔۔عقاب نے حیران ہو کر کہا مجھے بھلا تمہاری کیا ضرورت؟؟درخت نے کہا کہ اگر میں یہاں نہ ہوتا تو تم میری شاخوں پر بیٹھنے کے بجائے گرم ریت پر بیٹھتے تو زیادہ دیر زندہ نہ رہ پاتے۔ اور اس صحرا میں تم بھی تو اکیلے ہو۔یہاں تمہاری ضرورت کس کو ہے؟میری شاخوں پر بیٹھ کر یہ سوچ رہے ہو کہ میری ضرورت کس کو ہے؟عقاب کو درخت کی بات درست معلوم ہوئی اور پھر اس نے سوچا کہ اگر یہ درخت یہاں نہ ہوتا تو میں اکیلا رہ جاتا اور مجھے صحرا کی گرم ریت پر بیٹھنا پڑتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…