جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

بدلہ

datetime 3  جون‬‮  2017 |

راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکرار ہوگئی‘تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا‘ بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا‘ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا‘ جسمانی طور پہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اس کا ایک اور حل نکالا‘بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں”افواہ“ پھیلانا شروع کردی کہ وہ”چور“ ہے۔ وہ ہر رہگزر سے یہی بات کرتا‘ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کرلیتے تھے۔

کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہوگئی۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا‘ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پہ اسے کو رہائی مل گئی۔رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی‘ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے‘ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے‘ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔بوڑھا سردار کا حکم بجا لیا‘ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی‘ سبھی لوگ جمع ہوئے‘ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی‘ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کرکے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ یہ تو ناممکن سی بات ہے‘سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں افواہ پھیلائی‘ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ افواہ کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی‘ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ افواہ کیسے واپس لاو¿ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے‘ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔

کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میںافواہیں پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پہ کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے‘اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…