پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

گلی میں دو فرشتے تھے؟

datetime 2  جون‬‮  2017 |

ایک لڑکی رات کو دیر تک اپنے دوستوں کے گھر رکی رہی ۔ جب اس نے وقت دیکھا تو تھوڑی سی پریشان ہوئی لیکن اسے بہت زیادہ فکر نہیں تھی کیونکہ اس کا گھر تھوڑے ہی فاصلے پر تھا۔ وہ پندراں منٹ چل کر واپس پہنچ سکتی تھی۔ جب ساری لڑکیاں چلی گئیں تو اس نے اپنی دوست کو خدا حافظ کہا اور وہ بھی نکل پڑی۔ رات کافی تھی، غالباً دو بج رہے تھے اور باہر گھپ اندھیرا تھا۔

وہ جا رہی تھی کہ اسے ایک شارٹ کٹ یاد آگیا۔ وہ ایک دوسری گلی میں مڑ گئی۔ گلی کے آخر میں اسے ایک آدمی کھڑا نظر آیا۔ وہ کافی فکرمند ہو گئی کہ اب کیا کیا جائے؟ اس نے کچھ دعائیں پڑھی اور خود پر پھونک لیں۔ ایک دم اس کو بہت تحفظ کا احساس ہوا اور اس کا خوف ختم ہو گیا۔ وہ آرام سے اس آدمی کے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئی۔ اگلے دن صبح ناشتے کی ٹیبل پر اس نے اخبار اٹھایا تو پہلی ہیڈ لائن پڑھ کر اسے سانپ سونگھ گیا۔ لکھا تھا کہ کل رات دو بج کر دس منٹ پر اسی گلی میں ایک لڑکی کا ریپ ہوا تھا۔ اس لڑکی کے ادھر سے جانے کے کوئی دس منٹ بعد کسی اور لڑکی کے ساتھ ادھر یہ حادثہ رونما ہوا تھا۔وہ اسی وقت اٹھی بیگ لیا اور علاقائی تھانے چلی گئی۔ وہاں جا کر اس نے بتایا کہ وہ اس آدمی کو با آسانی شناخت کر سکتی تھی کیونکہ اس نے رات کو اسے اس گلی میں دیکھا تھا۔ پولیس والوں نے اسے تھانے میں اس کیس میں بند چار مشتبہ افراد دکھائے۔ اس آدمی کو دیکھتے ہی وہ پہچان گئی اور اس نے پولیس کو بتا دیا ۔ پولیس نے اس کی خوب خبر لی۔ اس لڑکی کو مسلسل ایک سوال کھٹک رہا تھا۔ اس نے تھانیدار سے اجازت لی اور اس کے ساتھ جا کراس آدمی سے پوچھا کہ جب میں وہاں سے گزری تھی تو تم نے کیسے انسانی رویہ رکھ لیا تھا؟ اس پر وہ آدمی بولا کہ کیا بات کر رہی ہو میں تمہارے ساتھ کچھ کیسے کر سکتا تھا، تمہارے ساتھ اتنے لمبے لمبے دو آدمی بھی تو تھے۔ وہ لڑکی تو بالکل اکیلی تھی۔ یہ سن کر وہ لڑکی اللہ کا شکر ادا کرنے لگ گئی۔  اللہ ہر انسان کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ کسی انسان کا کوئی وارث نہیں اگر اللہ اس کا والی نہ ہو تو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…