پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

شیوہ

datetime 1  جون‬‮  2017 |

ایک عورت کو اللہ ہر بار اولاد نرینہ سے نوازتا مگر چند ماہ بعد وہ بچہ فوت ہو جاتا لیکن وہ عورت ہر بار صبر کرتی اور اللہ کی حکمت سے راضی رہتی تھی۔ مگراس کے صبر کا امتحان طویل ہوتا گیا اور اسی طرح ایک کے بعد ایک اس عورت کے بیس بچے فوت ہوئے۔ آخری بچے کے فوت ہونے پر اس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ آدھی رات کو زندہ لاش کی طرح اٹھی اور اپنے خالق حقیقی کے سامنے سر سجدے میں رکھ کر خوب روئی اور اپنا غم بیان کرتے ہوئے کہا ‘

اے کون و مکاں کے مالک.! تیری اس گناہگار بندی سے کیا خطا ہوئی کہ سال میں نو مہینے خون جگر دے کر اِس بچے کی تکلیف اٹھاتی ہوں اور جب امید کا درخت پھل لاتا ہے تو صرف چند ماہ اس کی بہار دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔ آئے دن میرا دل غم کا شکار رہتا ہے کہ میرا بچہ پروان چڑھے گا بھی کہ نہیں۔اے دکھی دلوں کے بھید جاننے والے! مجھ کمزور پر اپنا لطف و کرم فرما دے۔ روتے روتے اسے اونگھ آ گئی۔ خواب میں ایک شگفتہ پربہار باغ دیکھا جس میں وہ سیر کر رہی تھی کہ سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ایک محل نظر آیا جس کے اوپر اس عورت کا نام لکھا ہوا تھا۔ باغات اور تجلیات دیکھ کر وہ عو رت خوشی سے بیخود ہو گئی۔ محل کے اندر جا کر دیکھا تو اس میں ہر طرح کی نعمت موجود تھی اور اس کے تمام بچے بھی اسی محل میں موجود تھے جو اسے وہاں دیکھ کے خوشی سے جھوم اٹھے تھے۔ پھر اس عورت نے ایک غیبی آوازسنی کہ تو نے اپنے بچوں کے مرنے پر جو صبر کیا تھا یہ سب اس کا اجر ہے۔ خوشی کی اس لہر سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ جب وہ خواب سے بیدار ہوئی تواس کا سارا ملال جاتا رہا اور اس نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے عرض کیا ‘یا الہٰی اب اگر تواس سے بھی زیادہ میرا خون بہا دے تو میں راضی ہوں۔ اب اگر تو سینکڑوں سال بھی مجھے اسی طرح رکھے تو مجھے کوئی غم نہیں۔ یہ انعامات تو میرے صبر سے کہیں زیادہ ہیں۔اس حکایت سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھنا چاہیے

کیونکہ یہی چیز انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔مصیبتیں‘ پریشانیاں اور دکھ یہ اللہ اپنے بندوں پر اس لئے بھیجتا ہے کہ وہ ان کے درجات بلند کرنا چاہتا ہے‘ صبر کرنا ولیوں اور پیغمبروں کا شیوہ ہے‘ صبر کرنے سے انسان ایسے درجات پا لیتا ہے جو بڑے بڑے عبادت گزار نہیں پا سکتے۔
حکایت نمبر 63 مترجم کتاب ‘حکایات رومی‘ از حضرت مولانا جلال الدین رومی ؒ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…