پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وقت ارتحال

datetime 26  مئی‬‮  2017 |

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بستر مرگ پر لیٹے تھے بدن پرلرزہ طاری تھا، اعضاء خوف و گھبراہٹ سے کانپ رہے تھے اور لوگ کثرت سے عیادت کرنے آ رہے تھے، لوگوں نے پوچھا اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اے خلیفہ رسولﷺ! کسی طبیب کو بلا لائیں! آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہلکی سی مسکراہٹ میں فرمایا کہ طبیب تو آ گیا ہے۔ لوگوں نے افسردہ ہو کر پوچھا پھر اس نے کیا کہا ہے؟

فرمایا کہ وہ کہتا ہے ’’یعنی میں جو چاہتا ہوں سو کرتا ہوں‘‘ لوگوں نے اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنے سروں کو ہلایا اور خاموش ہو گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے باپ کی عیادت کیلئے آئیں، دیکھا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جان کنی کے عالم میں ہیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے رخساروں پر آنسو رواں تھے اس شدت کرب کے عالم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان پر بے ساختہ یہ شعر جاری ہوگئے ’’تیری عمر کی قسم! جان کنی کے وقت اور سینہ تنگ ہو جانے کے عالم میں کسی انسان کو اس کی مالداری کام نہیں آتی‘‘۔صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نظر التفات فرمائی اور فرمایا اے بیٹی! ایسا نہ کہو بلکہ تم یہ کہو ترجمہ’’اور سکرات موت کا وقت حق کے ساتھ آ گیا‘‘ (سورہ ق19:)اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیٹی کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا میرے ان دو کپڑوں کو دیکھو، انہیں دھو کر مجھے انہی میں کفن دے دینا، کیونکہ زندہ آدمی کو نئے کپڑوں کی مردے کی بہ نسبت زیادہ ضرورت ہوتی ہے حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عیادت کے لئے آئے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ موت کی کشمکش میں تھے۔ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھبراتے ہوئے عرض کیا اے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ! اے خلیفہ رسولﷺ! مجھے وصیت کیجئے؟

ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تم پر دنیا (کے دروازے) کھولے گا لیکن تم اس میں سے بقدر ضرورت ہی لینا اور یہ کہ جو شخص صبح کی نماز پڑھ لیتا ہے وہ اللہ کی پناہ و امان میں آ جاتا ہے۔ لہٰذا تم اس کی پناہ کو نہ توڑنا ورنہ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جاؤ گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…