جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

بھولی بھالی

datetime 23  مئی‬‮  2017 |

احسان دانش کہتے ہیں کہ شروع شروع میں میری اہلیہ دنیا کے رسم و رواج اور آئین و ضوابط سے صرف اتنی بہرہ مند تھی کہ ایک دفعہ نجانے کس بات پر میں نے تنبیہ کی مگر اس کی حاضر جوابی پر اس قدر غصہ آیا کہ میرے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا ’’میرے ساتھ تمہارا نباہ مشکل ہو گا، میرا پیچھا چھوڑ اور اپنی راہ لو‘‘ اس نے میری برہمی سے بے پروا ہو کر لمحہ بھر کے توقف سے جواب دیا۔ ’’اچھا میں ابھی

اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤں گی، خدا رکھے میری ماں اور میرے بھائی موجود ہیں۔ آپ میرا مہر معاف کرا دیں‘‘۔ میرا یہ سننا تھا کہ غم و غصہ فرو ہو گیا، مسکراتا ہوا باہر نکل آیا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اس دور میں مجھے خدا نے کیسی شریک حیات عطا فرمائی ہے جو یہ بھی نہیں جانتی کہ مہر کی ادائیگی کس کافرض ہے اور اس کی طلبی و معافی بیوی کی طرف سے ہوتی ہے یا شوہر کی طرف سے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…