اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جب تک میل کچیل دور نہ ہو

datetime 11  اپریل‬‮  2017 |

1976 کی بات ہے، حضرت مولانا محمد انعام الحق قاسمی نے کہا کہ مجھے مسکین پور شریف میں چار مہینے رہنے کی سعادت حاصل ہوئی، اس وقت جہاں مسجد ہے پہلے وہاں عمارت تھی، کچھ کمرے تھے، اور اس سے متصل اندازاً کوئی پانچ چھ فٹ اونچی دیوار تھی جس میں نل لگے تھے جس سے مدرسے کے طلبہ غسل کیا کرتے تھے، چونکہ دیوار اتنی زیادہ اونچی نہیں تھی،

تو کئی مرتبہ ایسا ہوتا کہ کوئی طالب علم نہا رہا ہوتا اور جب دیکھتا کہ قریب سے کوئی گزر رہا ہے تو وہ اندر سے پانی اچھالتا، جس سے گزرنے والوں پر پانی پڑ جاتا اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ گزرنے والا باہر سے کوئی کنکر پھینک دیتا جس سے نہانے والے پریشان ہوتے تو کچھ طلباء نے ایک استاد صاحب سے مل کر یہ فیصلہ کیا، کہ ہم ان دیواروں کو اونچی کر دیں، چنانچہ ایک بوری سیمنٹ، کچھ اینٹیں اور ریت لائے اور جمعہ کے دن ان طلباء نے خود ہی اینٹیں جوڑ کر اس کو دو فٹ اونچی کر دیا، دو فٹ دیوار اونچی ہونے سے نہانے والے بھی خوش، اور باہر والے بھی خوش، ایک طالب علم نے کہا کہ پتہ نہیں یہ دیوار کتنی مضبوط بنی ہے؟ اس نے اوپر والے حصے کو ہاتھ لگایا تو وہ ہلنے لگی، اس نے دوسروں کو کہا، یہ تو ہلتی ہے، دوسرے نے بھی دیکھا، پتہ چلا کہ نیچے کی دیوار الگ اور اوپر کی الگ، چند نئی اینٹیں آپس میں تو جڑ گئی تھیں، لیکن پرانی دیوار کے ساتھ وہ جڑی نہیں تھی جب کسی اور نے ہاتھ لگایا تو اوپر کی دیوار نیچے گر گئی، طلبہ پریشان ہوئے کہ سیمنٹ بھی گئی، اینٹیں بھی گئیں اور مقصد بھی حل نہ ہوا تو کسی استاد نے میرے بارے میں بتایا کہ اس کا تعلق انجینئرنگ سے ہے، اس سے پوچھو، ایک طالب علم آیا، مجھے کہنے لگا کہ آپ مہربانی کرکے بتائیں کہ یہ دیوار کیوں گر گئی؟

میں نے آ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ نیچے کی دیوار مٹی گارے سے بنی ہوئی تھی اور اس کی جو سب سے اوپر کی اینٹ تھی اس کے اوپر بھی گارا اور مٹی تھی، انہوں نے گارا ہٹائے بغیر اوپر پانی ڈالا اور اسی پر سیمنٹ رکھ کر اینٹیں رکھ دیں، مٹی نے جوڑ ملنے نہیں دیا، میں نے طلبہ سے کہا ایک اسٹیل کا برش لے آئیں، وہ لائے، میں نے کہا اوپر کی جو اینٹ ہے اس کو ذرا رگڑو،

دو طالب علم لگے اور انہوں نے اوپر کی اینٹ کو خوب رگڑ کر صاف کر دیا، مٹی اور گارے کا نام و نشان ختم ہو گیا تو انہی کے ہاتھوں سے سیمنٹ رکھوایا، اینٹیں لگوائیں تو اینٹ پرانی دیوار سے بالکل چپک گئی، دونوں کا جوڑ پختہ ہوگیا، طلباء خوش بھی ہوئے اور حیران بھی، ان کے استاد ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اس میں راز کیا تھا کہ ہم نے بھی دیوار بنائی، تو الگ ہو گئی، آپ نے بنائی تو جوڑ پکا بیٹھ گیا، میں نے بتایا کہ اوپر جو میل تھی،

اس نے جوڑ بیٹھنے نہیں دیا، بلکہ دونوں کے درمیان رکاوٹ بن گئی۔آج جب یہ بات یاد آ رہی ہے، تو مضمون کے متعلق یہ بات سمجھ میںآتی ہے کہ بندہ اللہ سے دل کا تعلق جوڑنا چاہتا ہے، مگر گناہ جو میل ہے، وہ جڑنے نہیں دیتا، جوڑ بیٹھنے نہیں دیتا، اس لیے ہمارے اکابر ہر آنے والے سے پہلے گناہوں کے چھوڑنے کا مجاہدہ کراتے ہیں کہ گناہ جب چھوڑو گئے تو تھوڑی محنت کے ساتھ بھی تمہارا جوڑ بن جائے گا، اللہ رب العزت پاک ہے اس کے وصل میں گناہوں کی ناپاکی کبھی درمیان میں نہیں رہ سکتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…