ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

لیڈرشپ

datetime 27  مارچ‬‮  2017 |

ستمبر1944ء میں دہلی میں مہاتما گاندھی اور قائداعظم کے درمیان سیاسی نوعیت کی ایک اہم میٹنگ ہوئی‘ اس میٹنگ میں برصغیر کا آنے والا نقشہ طے ہونا تھا۔ گاندھی اس میٹنگ کیلئے قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ پر تشریف لائے‘ میٹنگ کا وقت طے ہو گیالیکن گاندھی مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے قائداعظم کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے‘ گاندھی جونہی قائداعظم کے گھر میں تشریف لائے‘

قائداعظم کے سیکرٹری بھاگتے ہوئے قائداعظم کے پاس پہنچے اور آپ سے عرض کیا ’’گاندھی آ گئے ہیں‘‘ قائداعظم اس وقت فارغ بیٹھے تھے‘ آپ نے گھڑی دیکھی اور سیکرٹری سے کہا ’’میرا خیال ہے یہ دس منٹ پہلے آ گئے ہیں‘‘ سیکرٹری نے ہاں میں سر ہلایا‘ قائداعظم نے میز پر پڑی کتاب اٹھائی‘ کھولی اور سیکرٹری سے کہا انہیں دس منٹ تک انتظار کرنے دو‘ میں ان سے مقررہ وقت سے پہلے نہیں ملوں گا‘‘ سیکرٹری حیران رہ گیا کیونکہ گاندھی ایک بڑی شخصیت تھی اور اسے یوں دس منٹ تک برآمدے میں کھڑا کر دینا ایک مشکل کام تھا چنانچہ سیکرٹری پریشان ہو گیا۔ قائداعظم نے اس سے کہا ’’میں ہندوؤں کے لیڈر کو قطعاً امپریشن نہیں دینا چاہتا کہ مسلمانوں کے لیڈر کے پاس اس قدر فالتو وقت ہے کہ وہ گاندھی کو دس منٹ پہلے مل سکتا ہے لہٰذا اسے ویٹ کرنے دو‘‘۔ قائداعظم نے اتنا کہا اور اس کے بعد کتاب پڑھنا شروع کر دی۔مالی دیانت کے معاملے میں بھی قائداعظم سیلف لیس تھے۔ گورنر جنرل بننے کے بعد وہ تمام ذاتی اخرجات اپنی جیب سے کرتے تھے اور انتقال تک ان کا کوئی فارن اکاؤنٹ تھا‘ نہ ہی زرعی زمین تھی اور نہ ہی ان کے کسی عزیز رشتے دار نے تین کروڑروپے کی بلٹ پروف گاڑی خریدی تھی اور جب اس سے اس گاڑی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا تھا

’’میں ایسی تین گاڑیاں خرید سکتا ہوں اور نہ ہی انہوں نے زیرو آمدنی کے باوجود اپنی بیگم صاحبہ کے نام نکلنے والے ساڑھے چار کروڑ روپے زرعی ترقیاتی بینک میں جمع کرائے تھے اور نہ ہی لندن اور جدہ میں ان کا کوئی کاروبار‘ کوئی فلیٹ اور کوئی سرے محل تھا۔ ان کی جتنی جائیداد تھی انہوں نے انتقال سے قبل وہ اسلامیہ کالج پشاور‘ علی گڑھ یونیورسٹی اور سندھ مدرسۃ الاسلام کے نام وقف کر دی تھی یہ ہوتی ہے لیڈر شپ ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…