اللہ نے ہم سب کے دماغ میں ایک گلینڈ رکھا ہے جسے پاینیل گلینڈ کہتے ہیں,اسے انسانی جسم کا حیاتیاتی گھڑیال بھی کہتے ہیں اور یہ ہمارے بصری اعصاب سے منسلک ہوتا ہے.یہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے جتنا ایک مٹر۔ہر روز عشاء کے بعد یہ گلینڈ ایک مادہ تیار کرنا شروع کر دیتا ہے جسے میلاٹونین کہتے ہیں جو خون کی نالیوں میں بہتا ہے اور جسم کو کینسر سے بچاتا ہے۔
یہ صرف اندھیرے میں کام کرتا ہے اگر محض آنکھ ہی روشنی میں رہے تو بھی یہ کام نہیں کرتا کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ ابھی رات نہیں ہوئی۔پھر اگر آپ رات کو بھی روشنی میں رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ خود کو قدرتی ویکسین سے محروم کر رہے ہیں۔اللہ فرماتا ہے(ہم نے رات کے آثار ختم کیے اور روشن دن بنایا)بدقسمتی سے،ہم نے آجکل رات کے آثار کو دن کی نسبت زیادہ دیدنی کر دیا ہے کہ ہم رات بھر جاگتے ہیں اور سارا دن سوتے ہیں۔ہمارے آباؤاجداد جو رات کو جلد سونے اور جلدی جاگنے کے عادی تھے وہ کینسرکا شکار نہ ہوتے اور نہ ہی ایسی کسی بیماری کا جن کا آجکل ہم سنتے ہیں۔فارمی مرغیوں پر ایک تحقیق کی گئی،ایک قدرتی طور پر پلتی مرغی جو جلدی سوتی ہے اور کھانے کے لیے جلدی جاگتی ہے جبکہ مصنوعی طریقے سے رکھی گئی مرغی کو کھانا رات کو جاگتا رکھ کر کھلایا جاتا ہے۔تیس فیصد کینسر مصنوعی طریقے سے پالی گئی مرغیوں کی وجہ سے ہوا جبکہ قدرتی طریقہ سے پالی گئی مرغیاں کسی بھی بیماری سے پاک تھیں۔اللہ نے ہماری حفاظت کے لیے یہ قدرتی ویکسین ہمارے اندر رکھی ہے آئیں جلدی سو کر اس سے فائدہ حاصل کریں۔یہ گلینڈ عشاء کے فوراً بعد اپنا کام شروع کرتا ہے جو فجر سے دو گھنٹے پہلے تک جاری رہتا ہے۔



















































