آدھی رات کا وقت تھا سب آرام کر رہے تھے،اچانک باپ کی آنکھ کھلی تو اس نے محسوس کیا کہ اسکا بیٹا پریشانی اور اضطراب کی وجہ سے سو نہیں پا رہا،باپ اٹھا اور بیٹے سے پریشانی کی وجہ دریافت کی ! بیٹا بولا کہ کل ہفتہ کا آخری دن ہے اور استاد نے پورے ہفتے کا کام دیکھنا ہے لیکن نہ تو آمادگی ہے نہ تیاری،جب استاد نے پوچھا تو کیا جواب دوں گا؟
باپ نے بیٹے کی بات کیا سنی غش کھا کر بیہوش ہوا اور گر گیا ،تھوڑی دیر بعد جب ہوش آیا تو بیٹے نے پوچھا !ابا جان کیا ہوا؟ باپ بولا بیٹا تم معلم کی طرف سے دیئے گئے 7 دنوں کے کام نہ کر سکنے یا آمادہ اور تیار نہ ہونے کیوجہ سے پریشان ہو اور سو نہیں پا رہے ہو کہ معلم کو کیا جواب دو گے جبکہ مجھے اپنے رب کی طرف سے 50 سال کے کام کا جواب دینا ہے اور آرام سے سویا ہوں۔جب معلم حقیقی زندگی کے ایک ایک پل کے بارے میں سوال کرے گا تو کیا جواب دوں گا۔اے خدایا پتہ نہیں کیوں کبھی کبھی تجھ کو گم کر دیتا ہوں۔دنیا کی پریشانیوں میں ،کاموں کی مصروفیت میں ،اپنے نفسانی وسوسوں میں ،حتیٰ کہ تھکاوٹ کی حالت میں نماز پڑھنے میں کبھی کبھی تجھے گم کر دیتا ہوں ۔اس بچے کی طرح جو بھرے بازار میں اپنی مہربان ماں کا ہاتھ چھوڑ کر گڑیوں کا تماشا دیکھنا شروع کر دیاور تھوڑی ہی دیر بعد جب کوئی کھیل تماشا اسکو سکون نہ پہنچا سکے اور تھک جائے پھر ماں کی آغوش کو تلاش کرتا پھرے۔خدایا میری بچوں والی عادت کو دیکھناچاہے میں تجھ کو گم کر بیٹھوں لیکن تو مجھے گم نہ کرنا۔



















































