کیا واقعی اس جنگل ميں ايسا پودا ہے جس کو چھونے سے لوہا سونے ميں تبدیل ھو جاتا ہے ؟؟؟ نوجوان نے لکڑياں جمع کرتے ہوئے بزرگ سے سوال کيا۔ بزرگ نے نوجوان پر اک گہری نظر ڈالی اٽبات ميں سر ہلايا اور دوبارہ لکڑياں جمع کرنے لگا۔
نوجوان کی ينک ميں نوکری تھی، دس ہزار ماہانہ کما رہا تھا نہ جانے کيوں دوستوں کی باتوں ميں آ گيا نوکری کو خير باد کہا، ہاتھ ميں لوہے کی وزنی سی لاٹھی پکڑ کر جنگل کی طرف چل نکلا ۔ جنگل کا چپہ چپہ چھان مارا ايک ايک پودے سے لاٹھی ٹکرائی مگر لوہا سونا نہ بن سکا، دن رات ايک کر ديا نہ دن کا پتہ نہ رات کی سدھ کتنے ہی دن بيت گئے مگر کاميابی نہ مل سکی ہمت ہار گيا۔ جنگل کے پاس سے گزرتی اک سڑک سے لفٹ لی اور گھر پہنچ گيا جوتا ٹوٹ پھوٹ چکا تھا پاؤں سوج چکے تھے تھکن سے نڈھال تھا جوتا اتار کر پھيکنے لگا تو کچھ چمکتا ہوا دکھائی ديا۔ غور سے ديکھا تو جوتے تلے لگے ھوے کيل تمام سونے کے بن چکے تھے ، کوئی اوزار لے کر کيل اکھاڑے اور بھاگا بھاگا سنار کے پاس گيا اور پوچھا يہ کيا ہے ؟؟ سنار کسوٹی پر پرکھا اور کہا يہ سونا ہے۔ پوچھا کتنے کا ھو گا يہ سارا ؟؟ سنار نے وزن کيا اور بولا دس ہزار کا نوجوان حساب لگاکر بولا ميری قسمت ميں ماہانہ دس ہزار ہی تھا۔



















































