ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہندوستان اپنی فوجیں پاکستان کی سرحد پر لا چکا تھا ۔۔ جنگ ہو نے والی تھی کہ صدر ضیاالحق نے بھارت کو بس ایک بات کی اور بھارتی فوج پسپا ہونے پر مجبور ہو گئی ۔۔ خون کو گرما دینے والی تحریر

datetime 10  مارچ‬‮  2017 |

سابق پاکستانی صدر ضیا الحق کے دور میں بھارت اپنی تمام فوجی طاقت سرحد پر لا چکا تھا جبکہ دوسری طرف سابق سوویت یونین (روس)کی فوجیں افغان مجاہدین سے افغانستان میں گتھم گتھاتھیں،پاکستان میں ہر آدمی یہی سمجھتا تھا کہ آج رات جنگ لگ جائے گی اور ہر روز سرحد کےقرب و جوار کے دیہات اور شہروں میں لوگ رات جاگ کر گزار دیتے ۔ بھارتی فوج اپنے وزیراعظم کے آرڈر

کا انتظار کر رہی تھی اور کسی بھی وقت پاکستان کیساتھ جنگ چھیڑ سکتی تھی ۔ اسی دوران اچانک سابق صدر جنرل ضیا الحق میچ دیکھنے کے بہانے دہلی چلے گئے۔اس وقت کے بھارتی وزیراعظم راجیوگاندھی کے مشیر بہرامنام جس نے اس سارے واقعے کو بھارتی اخبار انڈیا ٹوڈے میں اپنے ایک کالم میں تحریر کیا ہے کے مطابق راجیو گاندھی پاکستانی صدر جنرل ضیا الحق سے ملنے پر تیار نہ تھا مگر ان کے استقبال کیلئے اسے ائیرپورٹ جانا پڑاجہاں اس نے پاکستانی سربراہ جنرل ضیا الحق سے مصافحہ بھی ٹھیک سے نہ کیا اور مجھے کہا کہ ’’ضیا الحق کے ساتھ میچ دیکھنے کو جائو‘‘۔ ضیا الحق بہت مضبوط اعصاب کے مالک تھے میں نے دیکھا کہ راجیو کے ناروا روئیے کے باوجود ضیا الحق کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو خداحافظ کہتے وقت ضیا الحق نے کہا’’مسٹر راجیو آپ پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے ہیں بے شک کریں لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ اس کے بعد لوگ چنگیز خان اور ہلاکو خان کو بھول جائیں گے اور ضیا الحق اور راجیو گاندھی کو یاد رکھیں گے کیونکہ یہ روایتی جنگ نہیں ہو گی بلکہ یہ ایٹمی جنگ ہو گی۔ ممکنہ طور پر پورا پاکستان تباہ ہو جائے گا لیکن مسلمان پھر بھی دنیا میں زندگہ رہیں گے کیونکہ بہت سےمسلمان ممالک ہیں لیکن یاد رکھنا ہندوستان صرف ایک ہے اور میں دنیا سے

ہندو مت کو ختم کردوں گا اور اگر میرے پاکستان لوٹنے سے پہلے آپ نے پاکستانی بارڈر سے فوج ہٹانے کے انڈین فوج کو آرڈر نہ دئیے تو پاکستان کی سرزمین پر جا کر میرے منہ سے جو سب سے پہلا لفظ نکلے گا وہ ہو گا ’’فائر‘‘۔بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے مشیر بہرامنام کے مطابق راجیو کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو چکے تھے اور میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ تھی،

مجھے ضیا الحق اس وقت دنیا کا سب سے خطرناک انسان نظر آیا ، اس کا چہرہ پتھر کا لگ رہا تھا اور اس کے الفاظ میں دہشت تھی اور اس کی آنکھوں کو دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا کہ یہ پورے برصغیر کو ایٹم بم سے راکھ کر دے گا۔ میں دہل کر رہ گیا تھا، پلک جھپکتے ہی ضیا الحق کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی اور اس نے کھڑے باقی لوگوں سے نہایت ہی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔ میرے اور راجیو گاندھی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ بظاہر ہلکے پھلکے خوشگوار موڈ میں نظر آنے والے ضیاالحق نے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو کیا کہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…