بابا یہ بیٹیاں اچھی نہیں ہوتی نہ..بابا نے کہا!بابا کی جان یہ کس نے کہا تم سے؟ وہ بولی جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو لوگ همدردی کیوں کرتے ہیں؟ بیٹی کے پیدا ہوتے یہ کیوں کہتے کے اب سر جهکا کے رہنا پڑے گا؟ بیٹی کو اکیلے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی کے اس کی حفاظت کے لیے بهی ساتھ کوئی ہو۔
بیٹی بڑی ہو جائے تو اچهے رشتے کا انتظار اور پریشانی، کہ پتہ نہیں کیسے لوگ ملیں، بیٹیوں کی وجہ سے کتنی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے تو پهر اچهی کہاں ہوئیں بیٹیاں؟ بابا نے جهک کے اس کی پیشانی چومی اور کہا! میری ننهی سی پری۔ بیٹی کی پیدائش پہ جو لوگ ہمدردی کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کے بیٹی رحمت ہوتی ہے، بیٹی کی حفاظت اس لیئے کرتے لوگ کیوں کہ بیٹی قیمتی خزانہ ہوتی ہے ماں باپ کا۔ بیٹی کے رشتے کے حوالے سے پریشانی یہ ہوتی ہے کہ پتہ نہیں وہ کیسے لوگ ہونگے اور هماری ننهی پری کا خیال رکھیں گے یا نہیں؟ بابا کی جان ہوتی هیں بیٹیاں، رب کی رحمت ہوتی هیں بیٹیاں۔ وہ بابا کو دیکهے جا رہی تهی۔ ایک دم سے اس کے گال پہ زناٹے سے تهپڑ لگا اور بابا کی آواز آئی کہ کہاں مر گئی ہو؟ کب سے آوازیں دے رہا ہوں میں، مر کیوں نہیں جاتے تم سب، جان چهوٹ جائے میری اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے رہے۔ مر کیوں نہیں جاتے تم سب، جان چهوٹ جائے میری اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرتے رہے



















































