ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہمسائے نے سوچ کا انداز بدل دیا

datetime 8  مارچ‬‮  2017 |

ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے۔اکثرشام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں۔آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے۔وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے۔میں نے سلام دعا کی اور پوچھا’’کیا لے لیا عرفان بھائی؟‘‘کہنے لگے کچھ نہیں بھائی! وہ چکن پیٹیز اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے۔

میں نے ہنستے ہوئے کہاکیوں؟آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا؟کہنے لگے ،نہیں نہیں بھائی! یہ بات نہیں ہیدراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹیز اور جلیبیاں منگوائیں ،میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی،اس کے لئے بھی لے لوں،یہ تو مناسب نہ ہوا نہ کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں۔میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا ۔کیوں کہ میں نے آج تک اس انداز سے نہ سوچا تھا۔ میں نے کہااس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں توبھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے۔وہ کہنے لگے نہیں نہیں بھائی! وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے۔یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے،بعد میں بچوں کو دیتی ہے،اب یہ تو خود غرضی ہوئی نہ کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں۔میں نے حیرت سے کہا’’گل چھڑے اڑاؤں‘‘یہ چکن پیٹیز، یہ جلیبیاں،یہ گل چھڑے اڑانا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں۔

وہ کہنے لگے کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لائے تھے۔خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال کھارہی تھی۔میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہااور وہ بولے جارہے تھے۔دیکھئے!ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا، وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے،اسے بھی بھوک لگتی ہے، اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں،اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کا،پہنے اوڑھنے کا،گھومنے پھرنے کا،اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینااور دو وقت کی روٹی دے کے اترانا کہ بڑا تیر مارایہ انسانیت نہیں،یہ خود غرضی ہے اور پھر ہم جیسا دوسرے کی بہن اور بیٹی کے ساتھ کرتے ہیں وہی ہماری بہن اور بیٹی کے ساتھ ہوتا ہے ان کے آخری جملے نے مجھے ہلا کے رکھ دیا۔میں نے تو آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھامیں نے کہا!آفرین ہے عرفان بھائی! آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا۔میں واپس پلٹا تو وہ بولے ’’آپ کہاں جارہے ہیں؟‘‘میں نے کہا’’آئسکریم لینے ،وہ آج دوپہر میں آفس میں آئسکریم کھائی تھی‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…