قدیم بادشاہوں میں رواج تھا کہ ایک افسر ان کو ہر صبح و شام موت یاد دلایا کرتا تھا۔ جب شاہجہاں کی تاج پوشی ہو رہی تھی۔ راگ رنگ، ناچ گانے، راجے مہاراجے، خوبصورت لونڈیاں، سپاہ لشکر سب موجود تھے۔ خزانے لٹائے جا رہے تھے۔ اہل اللہ دعا کر رہے تھے۔ فقراء، گدا مداح سرائی میں مصروف تھے۔
شعراء قصیدے لکھ رہے تھے۔ انتظام و اہتمام دربار عام صبح و شام جاری تھا۔ چمکدار موتیوں والا تاج سرپر تھا۔ آفرین مبارکبادی کے پیغامات ،اطلاعات، لگا تار مل رہے تھے۔ جب شاہجہاں کی تاج پوشی ہو رہی تھی۔خوشی و مسرت و شادمانی میں ہر شخص باغ و بہار تھا۔ اچانک ایک فقیر نے بلند آواز سے کہا۔ بادشاہ سلامت ! اتنی خوشی کا اظہار کرو جتنی خوشی رہ سکے۔ کل یہ تاج اتارا جائے گا۔ یہ شاہی دربار ختم ہو جائے گی۔ یہ عیش و عشرت سب کافور ہو جائے گی۔ جو عزت دے سکتا ہے۔ذلت بھی دے سکتا ہے۔ بادشاہت دینے ولا تباہی بھی کر سکتا ہے۔ تاج دینے والا اتار بھی سکتا ہے۔ ہزاروں میں رونق افروز ہونے والا کل تنگ و تاریک قبر میں جائے گا۔ شاہجہان کا چہرہ یکایک فق ہو گیا۔ گردن جھک گئی، آنکھیں پرنم ہو گئیں، دماغ چکرا گیا۔ وجود کانپنے لگا۔ فوراً تخت سے اتر کر مٹی پر سر رکھا۔ عاجزی و انکسار ی سے روتے ہوئے عرض کیا۔ کہ مالک زمین و آسمان، اے حقیقی شاہجہان، رب دو جہان، اے رحیم و رحمان، اے وارث کون و مکان، میں کمترین انسان شاہجہان پانی کا قطرہ، لاش محض، محتاج فقیر ناتواں، بندہ حقیر ہوں۔ اے اللہ ! ذلت سے بچانا، حکومت تیری ہے میں تیرا محکوم ہوں، میں عاجز تو قوی، میں انسان تو عالی شان، میں فقیر تو مدبر، میں فانی تو باقی، مجھے ناز نہیں نیاز ہے، تو ہی شرافت دے، قوم کی خدمت دے، بادشاہ کی اس مسکینی، ناتوانی، بے چینی، بیقراری اور اضطراری کو دیکھ کو پورے دربار میں سناٹا چھا گیا۔ تمام خوشیاں، عیش و عشرت فکر آخرت میں تبدیل ہو گئیں۔ ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ تمام پروگرام موقوف، اذہان ماؤف۔



















































