حجاج کی موت کے بعد جب قیدیوں کو شمار کیا گیا تو ان میں ایک لاکھ بیس ہزار مرد اور بیس ہزار عورتیں تھیں اور ان میں چار ہزار ایسی عورتیں تھیں جن کے جسم پر لباس نہیں تھا اور یہ قیدی ایک ہی چار دیواری میں قید تھے قید خانہ کی چھت نہیں تھی جب کوئی قید گرمی سے بچنے کے لیے اپنے ہاتھ سے اپنے چہرے کا سایہ بناتا تو زندان کے سپاہی اسکو پھتر مارتے تھے
انہیں جو کی روٹی میں ریت ملا کر کھانا دیا جاتا اور پینے کے لیے انہیں کڑوا پانی دیا جاتا۔حجاج لعین بے گناہ افراد اور اور بالخصوص سادات کے خون بہانے کو اعزاز سمجھتا تھا ۔ایک مرتبہ اس ملعون نے روزہ رکھنا چاہا تو نوکروں کو حکم دیا کہ اس کے لیے من پسند سحری اور افطاری کا انتظام کیا جائے چنانچہ اشارہ فہم نوکروں نے اس کے لیے ایسی روٹیاں تیار کیں جنہیں سادات کے خون سے گوندھا گیا تھا اس لعین نے اسی روٹیوں سے سحری افطاری کی اس ملعون کو ہمیشہ اس بات کا دکھ رہتا تھا کہ وہ کربلا میں موجود نہ تھا ورنہ وہ شمر سے بھی بڑھ کر ظلم کرتا ۔حجاج نے کوفہ و بصرہ کے درمیان شہر واسط کی بنیاد رکھی تھی جہاں وہ نو ماہ سے زیادہ قیام نہ کر سکا اور 53 سال کی عمر میں دنیا فانی سے کوچ کر گیا۔ابن خلکان لکھتے ہیں حجاج کو عرضہ آکلہ لا حق ہو گیا تھا اس کے جسم کے اندر بچھو نما کیڑے پیدا ہو گئے ایک طبیب کو بلایا گیا تو اس نے گوشت کا اک ٹکڑا ریشم کی رسی کے ساتھ باندھا اور حجاج کو کہا وہ اس گوشت کے ٹکڑے کو نگل لے حجاج نے گوشت کا ٹکڑا نگلا اور کچھ دیر بعد ریشم کی ڈور سے اس ٹکڑے کو کھینچا تو اس ٹکڑے پر بہت سارے کیڑے چمٹے ہوئے تھے۔
اللہ تعالی نے حجاج کے جسم پر سردی کو مسلط کر دیا اس کے اطراف میں دن رات کوئلوں کی انگھیٹیاں جلائی جاتی تھیں لیکن وہ پھر بھی سردی سے چلاتا رہتا تھا اس نے حسن بصری سے اپنے درد و الم کی شکایت کی تو انہوں نے کہا میں نے تجھے بے گناہ افراد اور بالخصوص سادات کے قتل سے بارہا منع کیا تھا لیکن تو باز نہ آیا آج تو اسی کا خمیازہ بھگت رہا ہے حجاج نے کہا میں خدا سے یہ دعا نہیں کرتا کہ وہ مجھے دوزخ سے آزاد فرمائے میری بس اتنی سی دعا ہے جلدی سے میری روح قبض کر لے تاکہ میں دنیا کے درد و الم سے چھٹکارہ حاصل کر سکوں قاضی نور اللہ شوستری مجالس المومنین میں لکھتے ہیں موت کے وقت حجاج رونے لگا وزیر نے رونے کا سبب پوچھا تو کہا میں نے لوگوں پر ظلم کیا ہے بالخصوص اولاد پیغمبر پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں ۔خوشامدی وزیر کہنے لگا امیر آپ کیوں گھبراتے ہیں آپ نے جو کچھ بھی کیا ہے دلیل و برہان کے ساتھ کیا ہے اور اسے کسی طرح بھی ظلم نہیں قرار دیا جا سکتا ۔حجاج نے کہا اگر قیامت کے دن مجھے حکومت دی جائے اور تو اس دن میرا وزیر ہو تو اس دن بھی یہ ہی دلیل و برہان ہمیں کام دے گی ۔سنو میں بخوبی جانتا ہوں میری موت کا وقت آچکا ہے اور دوزخ میرا انتظار کر رہی ہے خدا نے چاہا تو دوزخ میں بھی تیری اور میری جوڑی قائم رہے گی۔



















































