کیا آپ جانتے ہیں کہ استعمال شدہ کپڑوں’ جوتوں اور پرانی دوسری اشیاء کے بازار کو ’’لنڈا بازار‘‘کیوں کہا جاتا ہے ؟اس کے متعلق مشہور ہے کہ ایک برطانوی خاتون کا نام Linda لینڈا تھا۔وہ بہت رحم دل تھی، اسے غریبوں سے خاص ہمدردی تھی اس نے غریبوں کے لیے کچھ کرنیکا سوچا
چونکہ اس کے پاس اپنے وسائل کم تھے اس لئے اس نے اپنے دوستوں سے عطیات دینے کی درخواست کی۔ اس کے دوستوں نے اسے کچھ پرانے جوتے کپڑے وغیرہ دیئے جو اس نے غریبوں کے لیے ایک سٹال پہ سجائے اور غریب لوگ وہاں سے وہ کپڑے مفت لینے لگے۔ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی ترغیب ہوئی اور ان لوگوں نے بھی اپنے پرانے کپڑوں اور جوتے وغیرہ لینڈا کو دینے شروع کردئیے اور اس کا یہ سٹال کافی مشہور ہوگیا۔ جو بعد میں ایک مارکیٹ کی شکل اختیار کرگیا۔آخر اس جگہ کو لینڈا مارکیٹ کہا جانے لگا۔ جودرحقیقت غریبوں کی مارکیٹ تھی۔انگریزوں کی برصغیر آمد کے ساتھ ہی انگریزوں کی پرانی اشیاء جو بے کار ہوجاتی تھیں سستے داموں یہاں پاک وہند میں بک جاتی تھیں۔گویا انگریز جاتے ہوئے وراثت میں ہمیں لینڈا مارکیٹ دے گئے جسے ہم لنڈا بازار کہتے ہیں جو ہمارے ہاں مقامی زبان میں اس کا بگڑا ہوا نام ہے۔اس کہانی کے اندر بھی ہمارے لئے ایک سبق موجود ہے۔لینڈا ایک غیر مسلم ہوکر بھی خیر خواہی کے جذبے سے سرشار تھی۔ اور آج ہم اکثر مسلمان جو اسلام کے نام لیوا ہیں۔ اپنے غریب بہن بھائیوں کا خیال تک نہیں رکھتے۔حالانکہ ہمارے دین اسلام کے نام مطلب ہی خیر خواہی ہے۔



















































