علاقے کی سب سے بڑی محل نما کوٹھی کے بڑے اور سب سے ٹھنڈے کمرے میں سیٹھ صاحب ویڈیو کال کرنے میں مصروف تھے ۔ یہ کال مدینہ مسجد نبوی میں کی جا رہی تھی۔ جہاں آج سیٹھ صاحب نے اپنے والد,والدہ اور دوسرے قریبی مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے، کاروبار میں برکت کے لیے، صحت و سلامتی کے لیے پانچ سو افراد کی افطاری کروانا تھی۔ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے انتظامات کا جائزہ لے رہے تھے۔
وہ خوش تھے اس ثواب کا اندازہ کر کے جو اس افطاری سے انہیں ملنے والا تھا۔ علاقے میں واہ واہ بونس میں تھی۔ ابھی افطاری ہوئی ہی نہیں تھی کہ ہر جگہ ان کی سخاوت کے چرچے تھے۔ ایک دو بندوں کی افطاری کرانی بھی مشکل ہوتی ہے اور سیٹھ صاحب نے مدینہ سے دور رہ کر مدینہ میں پانچ سو افراد کی افطاری کروائی ہے ماشاءاللہ جی! ماشاءاللہ! بڑی سی کوٹھی سے دو فرلانگ کے فاصلے پر مٹی پھتر گارے اور لکڑی سے بنے بے ہنگم مکان کے اونچے نیچے صحن میں بیٹھی اماں جنتے افطاری کا سامان تیار کر رہی تھی۔ کجھور مہنگی تھی سو اس کی جگہ گڑ تھا جو سال کے سال مظفرگڑھ سے آتا تھا اور اماں محفوظ کر لیا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ تخم ملنگا ملے پانی میں لیموں کی جگہ نمک ذرا ذیادہ کردیاتھا۔ فاضل چاچا پاس ہی چارپائی میں بیٹھا تقریبا دسویں بار پوچھ رہا تھا پانی ٹھنڈا ہوا کہ نہیں۔ اماں نے ہاتھ پانی کی بالٹی میں ڈالا اور بولی! ہاں ٹھنڈا ہے۔ ۔سارا دن چھائوں میں گھڑا پڑا رہا، ٹھنڈی ریت پر، اوپر بوری تھی اب بھی ٹھنڈا نہ ہو گا؟ لگتا ہے تجھے آج روزہ کچھ ذیادہ ہی لگ گیا ہے۔ ہاں بھلی لوک۔ آج تو پیاس سے دم نکلے جا رہا ہے آج برف نہیں آئی کہیں سے۔ اماں جنتے کے بجائے لڑکا دانش بولا ۔ ابا گیا تھا میں آنٹی رخسانہ کے گھر پر وہ کہتی ہیں کہ بجلی ہی نہیں برف کیا بنے۔ ابا! دانش تھوڑا چپ کر کے پھر بولا۔ ہاں پتر۔ ابا آج وڈے چوہدری جی نے مکے مدینے میں افطاری کرائی ہے، پانچ سو بندوں کی۔ بوڑھا فاضل حیران سا ہوا۔
مکے مدینے ، ادھر کوئی نہیں تھا افطاری کرنے والا۔ ابا! وہاں ثواب ذیادہ ہوتا ہے نا وہ وڈا گھر ہے نا رب کا۔ ہمیں بھی کبھی کرا دیتے تو ثواب ہی ہونا تھا۔ بوڑھے فاضل نے حسرت سے کہا۔ برف ہی دے دیتے تو! ہائے ہائے دانش کے ابا کچھ خوف خدا کر۔ پر ابا ادھر ثواب کم ہوتا ہے نا۔ پتا نہیں پتر ثواب تو دینے والا جانے ۔ ۔ ۔ مولوی صاحب تو کہتے ہیں قریب والے کا حق زیادہ ہوتا ہے۔



















































