ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیگم کا مولوی صاحب سے شکوہ اور اللہ کی حکمت

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

مولوی صاحب ! دل کی بات پوچھیں تو آپ سے شادی کے بعد میں نے خواہشوں کا گلا ہی گھونٹا ہے، شادی کرکے آئی تھی تو کئی امیدیں تھیں جو ہر گزرتے سال کے ساتھ دم توڑتی گئیں، اچھے گھر اور لباس کی خواہش کس کو نہیں ہوتی۔ پر کرائے کے مکان میں زندگی کٹ گئی اور لباس کے نام پر خیرات کے کپڑوں میں تن ڈھانپا۔ مولوی صاحب نے جو اپنی بیگم سے سوال کیا کہ آج کچھ ایسی دل کہ بات بتاؤ جو پہلے کبھی نہ کی ہو۔

پھر بیگم کے ایسے جواب پہ وہ تھوڑے خفا ہوئے اور کافی دیر بیگم کے چہرے کو دیکھتے رہے۔ پھر چارپائی سے اٹھ کے بولے۔ مانا کہ میں نے دنیا کی دولت نا کمائی ہو، پر جو میرے اللہ نے مجھے عزت دی ہے وہی میرے لیے کسی خزانے سے کم نہیں۔ مولوی صاحب ! کیا کرنا ایسی عزت کا جس سے نا پیٹ بھرے نا تن ڈھکے، بس اب تو عادت ہوگئی ہے اسی طرح من مار کے جینے کی۔ بیگم کسی صورت ان سے متفق نہ ہوئی اللہ پاک نے رزق دینے کا وعدہ کیا ہے اور وہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا، اور یہ جو ہاتھ پاؤں دیئے ہیں انکا صحیح استعمال کرنے سے ساری بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں۔ اس سب کے بعد اگر کسی چیز کی انسان کو ضرورت ہے تو وہ ہے سکوں اور اطمینان۔ اور سکوں اور اطمینان بس اس ذات کی عبات میں محیط ہے۔ ایک دن تم بھی یہ بات سمجھ جاؤ گی۔ عصر کی اذان ہوئی اور مولوی صاحب مسجد کی طرف چل دیئے۔ کافی دیر گزر گئی مولوی صاحب گھر واپس نہ لوٹے ۔ بیگم پریشان ہوئی محلے کے بچوں سے پوچھ گچھ کی پر کہیں سے کوئی خبر نہ آئی۔ قریب آدھی رات تک انتظار کے بعد مولوی صاحب کی لاش کو انکے گھر پہنچادیا گیا۔ سڑک پہ کسی گاڑی کی ٹکر لگی ، چند اجنبی لوگوں نے انھیں ہسپتال پہنچایا لیکن وہ جانبر نہ ہوپائے۔

مولوی صاحب کی بیگم بیوہ ہوئی تو انکے کئی ایسے جاننے والے نکل آئے جن کے پاس بے حساب دولت تھی ، کیونکہ مولوی صاحب کے کردار اور صداقت کا پہلے ہی بول بولا تھا ، اسی لیے انکی بیوہ پہ لوگوں کو بڑا رحم آیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے مولوی صاحب کی بیوہ کرائے کے مکان سے نکل کے اپنے ذاتی گھر کی مالکن بن گئیں۔ کئی صاحب مال لوگوں نے انکا مہینہ باندھ دیا۔ اب انکے پاس گھر بھی تھا اور اچھا لباس بھی۔ زندگی چند ہی دنوں میں سکون میں آگئی پر ایسا سکون تھا کہ پانچ وقت کی نمازی خاتون کی نمازیں قضا ہونے لگیں۔ مال و دولت کی خوشی تو تھی پر دل کا اطمینان دور دور تک میسر نہ تھا۔ جہاں عبادت کم پڑ جائے تو نحوست اسکی جگہ لے لیتی ہے اور اس کا اثر زندگی پہ نمایاں ہوتا ہے۔ ایک عرصہ بیتا تو مولوی صاحب کی بیوہ کو ان کی کہی وہ بات یاد آئی ..اطمینان اگر دولت میں ہوتا تو سکون کبھی سجدوں میں میسر نہ ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…