امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے صرف چند روز قبل انکشاف کیا کہ دو سال قبل جب اس کے جواں سال بیٹے کو کینسر کے مرض نے گھر لیا تو وہ اس کے علاج کیلئے پیسے پیسے کا محتاج ہوگیا۔ اس مقصد کیلئے اس نے اپنا واحد اثاثہ جو کہ 4 ہزار سکوائر فٹ گھر تھا،
اونے پونے داموں بیچنے کا فیصلہ کرلیا۔ قرض وہ اس لئے نہ لے سکا کیونکہ ایک تو اس کی شرائط بہت سخت تھیں، دوسرا اس کی تنخواہ اتنی نہیں تھی کہ وہ اپنی مدت ملازمت کے بعد بھی قرض کی قسطیں ادا کرسکتا۔ گھر کا سودا تقریباً ہو چکا تھا کہ صدر ابامہ کو کسی طرح پتہ چل گیا اور اس نے اپنے ذاتی بنک اکاؤنٹ سے جو بائیڈن کی مدد کرکے اس کا گھر بیچنے سے بچا لیا۔ مگر جنوری 2015 میں بائیڈن کا بیٹا کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ نہ کرسکا اور دنیا سے چلا گیا۔ یہ کوئی نسیم حجازی کے ناول کی داستان نہیں بلکہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک امریکہ کے نائب صدر کی بالکل سچی کہانی ھے۔ کیا مملکت اسلامہ پاکستان سمیت دنیا کے کسی ایک مسلمان ملک کے حکمران ایسی ‘کسمپرسی’ کی زندگی گزارتے ہونگے جیسی بائیڈن کی ھے؟ چند سوالات ہیں جن کے جواب پاکستانی سیاستدانوں پر چھوڑتا ہوں: کیا امریکی نائب صدر بنکوں سے قرضہ لے کر معاف نہیں کروا سکتا تھا؟ کیا امریکی نائب صدر کا کوئی دوست میاں اور ملک نہیں تھا جو اسے اربوں کی پراپرٹی بغیر کسی ‘ لالچ’ کے دے دیتا؟ کیا امریکی نائب صدر اتنا نکما اور بیوقوف تھا کہ وہ پانامہ میں آف شور کمپنی تک نہ بنا سکتا؟
کیا امریکی نائب صدر کا بیٹا حسن نواز سے بھی گیا گزار اور فارغ تھا جو 16 سال کی عمر میں پارک لین جیسے مہنگے علاقے میں اربوں ڈالر کی جائیداد بنا چکا تھا؟ کیا امریکی نائب صدر کے پاس کوئی مولانا نہیں تھا جو اسے کرپشن کو حلال کرنے کے ‘شرعی’ طریقے سمجھا سکتا اور اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرسکتا؟ کیا امریکی نائب صدر کے پاس حکمرانوں جیسے صوابدیدی اختیارات نہیں جن کہ تحت جب چاھے اربوں روپے کے ذاتی جہاز خرید سکیں، 35 لاکھ روپے کا ڈنر کرسکیں، سرکاری خرچ پر وزیراعظم کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ کرسکیں؟ اور پھر انہی صوابدیدی اختیارات کے تحت چند کروڑ اپنی جیب میں ڈال کر ‘ اللہ تیرا شکر ھے’ کہہ سکیں؟



















































