بیگم نے آئینہ میں لپ سٹک ٹھیک کرتے ہوئے کہا:ماں جی، آپ اپنا کھانا بنا لینا، مجھے اور انہیں آج ایک پارٹی میں جانا ہے۔ بوڑھی ماں نے کہا بیٹی مجھے گیس والا چولها چلانا نہیں آتا۔ تو بیٹے نے کہا ماں، پاس والے دربار میں آج لنگر ہے،تم وہاں چلی جاؤ کھانا بنانے کی کوئی نوبت ہی نہیں آئے گی!
ماں چپ چاپ اپنی چپل پہن کر دربار کی طرف چل دی۔ یہ سارا واقعہ ان کا 10 سال کا بیٹا سن رہا تھا۔ پارٹی میں جاتے وقت راستے میں اس نے اپنے پاپا سے کہا پاپا، میں جب بہت بڑا آدمی بن جاؤں گا نا تب میں بھی اپنا گھرکسی دربار کے پاس ہی بناؤں گا۔ ماں نے اس کی وجہ پو چھی کیوں بیٹا؟ تو اس نے جو جواب دیا اسے سن کر اس کے ماں اور باپ کا سر شرم سے جھک گیا۔ جنہوں نے اپنی ماں کو دربار میں جانے کا مشورہ دیا تھا۔ اس نے کہا! کیونکہ ماں،جب مجھے بھی کسی دن ایسی ہی کسی پارٹی میں جانا ہوگا تب تم بھی تو کسی دربار میں لنگر میں کھانا کھانے جاؤ گی نا اور میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کہیں دور کسی دربار میں جانا پڑے۔ پتھر تب تک سلامت ہے جب تک وہ پہاڑ سے منسلک ہے۔ پتہ تب تک سلامت ہے جب تک وہ درخت سے منسلک ہے۔ انسان اس وقت تک سلامت ہے جب تک وہ خاندان سے منسلک ہے۔ ایک قبر پر لکھا تھا “کس کو کیا الزام دوں دوستو! زندگی میں ستانے والے بھی اپنےتھے اور دفنانے والے بھی اپنے تھے۔



















































