ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا۔ اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھـر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے۔ اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا۔

اشتہار کی تحریر میں اُس نے گھر کے محل وقوع’ رقبے’ ڈیزائن’ تعمیراتی مواد’ باغیچے’ سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سُنایا تاکہ تحریر پر اُس کی رائے لے سکے۔ اشتہار کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا برائے مہربانی اس اشتہار کو ذرا دوبارہ پڑھنا۔ اُس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا۔ اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کو یہ شخص تقـریباً چیخ ہی پڑا کہ کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟ اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو۔ مہربانی کرکے اس اشتہار کو ضائع کر دو، میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے۔ ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دویقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی۔ اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے، ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی ، کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔

ایک شخص نے کہا، میں اپنے ننگے پیروں کو دیـکھ کر کُڑھتا رہا پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر، گاڑی، نوکری وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں۔ کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی’ جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ نے جو دیا ہے اس کا شکر ادا کرنا چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…