ایک مرتبہ میں جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن کے علاقے میں ریل گاڑی پر سفر کررہا تھا۔راستے میں ایک جگہ پہاڑی علاقے میں گاڑی رک گئی،ہم نماز کیلئے نیچے اترے۔وہاں میں نے ایک انتہائی خوبصورت پتوں والا پودا دیکھا، وہ پودا حسین و جمیل معلوم ہورہا تھا۔ بے اختیار دل چاہا کہ اس کے پتے توڑوں۔میں نے جیسے ہی پتے کو توڑنے کیلئے ہاتھ بڑھایا ‘ میرے رہنما ایک دم زور سے چیخ پڑے کہ حضرت !
اسے ہاتھ مت لگائیے گا۔میں نے پوچھا،کیوں؟انہوں نے بتایا کہ یہ بہت زہریلی جھاڑی ہے۔ اس کے پتے دیکھنے میں تو خوش نما ہیں لیکن یہ اتنا زہریلا ہے کہ اسے چھونے سے انسان کے جسم میں زہر چڑھ جاتا ہے اور جس طرح بچھو کے ڈسنے سے زہر کی لہریں اٹھتی ہیں اس طرح اسے چھونے سے بھی جسم میں زہر کی لہریں اٹھتی ہیں۔میں نے کہااللہ کا شکرہے کہ میں نے ہاتھ نہیں لگایا اور پہلے سے معلوم ہوگیا۔ یہ تو بڑی خطرناک چیز ہے۔ پھر میں نے ان سے کہا’’یہ تو بڑا خطرناک معاملہ ہے‘‘ آپ نے مجھے تو بتادیا جس کی وجہ سے میں تو بچ گیا لیکن اگر کوئی انجان آدمی جاکر اسے ہاتھ لگائے تو وہ تو مصیبت اور تکلیف میں مبتلا ہوجائے گا۔اس پر انہوں نے اس سے بھی زیادہ عجیب بات بتائی۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ جہاں کہیں یہ زہریلی جھاڑی ہوتی ہے اسی کی جڑ میں آس پاس لازماً ایک پودا اورہوتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص کا ہاتھ اس زہریلے پودے پر لگ جائے تو وہ فوراً اس دوسرے پودے کے پتے کو ہاتھ لگادے تو اسی وقت اس کا زہر ختم ہوجائے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی جڑ میں وہ دوسرا پودا بھی دکھادیا جو اس کا تریاق ہے۔بس یہی مثال ہمارے گناہوں اور توبہ کی ہے جہاں کہیں گناہ کا زہر چڑھ جائے تو فوراً توبہ و استغفار کا تریاق استعمال کرنا چاھیئے..!!از مولانا محمد تقی عثمانی صاحب۔



















































