حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ سے کلام کرنے جس راستے سے کوہ طور پر آیا جایا کرتے تھے وہاں دو شخص اپنے اپنے انداز میں اللہ کی عبادت میں مصروف ہوتے تھے۔ایک شخص جو کہ بہت بڑی چٹان پر عبادت کرتا تھا اور اس کے سجدوں سے چٹان پر رگڑ کے نشان پڑ چکے تھے جبکہ دوسرا شخص ایک چھوٹے سے پتھر پر بیٹھ کر یا کریم کے بجائے یا تریم کا ورد کیا کرتا تھا۔
چٹان والے شخص کی عبادت کو دیکھتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذہن میں اللہ کی بارگاہ میں اس شخص کا مقام دیکھنے کا شوق پیدا ہوا جس کا اظہار آپ نے اللہ پاک سے بھی کیا۔اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان دونوں آدمیوں سے ایک ہی سوال پوچھنے اور ان کے جوابات کے ساتھ حاضر ہونے کا فرمایا۔سوال یہ تھا’’میرے رب نے سوئی کے سوراخ سے سو اونٹوں کا قافلہ گزار دیا ہے، کیا تم تسلیم کرتے ہو؟‘‘حضرت موسیٰ علیہ السلام چٹان والے شخص کے پاس گئے جس کے سجدوں سے چٹان پر رگڑ پڑ چکی تھی اور سوال پوچھا جس پر وہ شخص غصے سے بولا۔اے موسیٰ علیہ السلام تم اللہ کے نبی ہو لیکن جھوٹ بھی کمال کا بولتے ہو بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ سوئی کے سوراخ سے سو اونٹ گزر جائیں جہاں سے اونٹ کا ایک بال بڑی مشکل سے گزر سکتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام دوسرے شخص کے پاس گئے اور سوال پوچھا جس کا جواب یا تریم کا ورد کرنے والے نے یوں دیا۔اے پیغمبر خدا !آپ محض سو اونٹوں کی بات کرتے ہیں میرا رب بہت ہی عظیم قدرت والا ہے ،سو اونٹ کیا وہ چاہے تو سوئی کے سوراخ سے پوری کائنات گزار سکتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دونوں آدمیوں کے جوابات اللہ کی خدمت میں پیش کیے تو اللہ نے فرمایا۔چٹان والے شخص کا ہم پر کوئی عقیدہ نہیں اس لیے ہمارے نزدیک اس کا کوئی مقام نہیں جبکہ دوسرے شخص کا ہم پر پختہ عقیدہ ہے اگر تم چاہو تو اس کے مقام اور رتبے کی جھلک دیکھ سکتے ہو۔



















































