ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

طلاق ہوئی یا نہیں؟

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

وقت کا بادشاہ اپنی بیوی کے ساتھ تخلیہ میں تھا اس کی بیوی کسی وجہ سے اس سے ناراض تھی بادشاہ چاہتا کہ محبت و پیار میں وقت گزاریں اور بیوی جلی بیٹھی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ اس کی شکل ایک آنکھ بھی نہ دیکھوں ادھر سے اصرار اور ادھر سے انکار جب بہت دیر گزر گئی تو بادشاہ نے محبت میں کچھ اور بات کردی جب بادشاہ نے بات کردی تو بیوی نے کہا جہنمی دفعہ ہو یہاں سے۔

جب بیوی نے اتنی بڑی بات کہہ دی تو بادشاہ کو غصہ آگیا، چنانچہ کہنے لگا اچھا اگر میں جہنمی ہوں تو تجھے بھی تین طلاق، اب بادشاہ نے یہ بات تو کہہ دی مگر وہ دونوں پوری رات متفکر رہے کہ آیا طلاق ہوئی بھی ہے یا نہیں۔خیر صبح اٹھے تو ان کے دماغ ٹھنڈے ہوچکے تھے چنانچہ فتویٰ لینے کے لیے متفکر ہوگئے کسی مقامی عالم کے پاس پہنچے اور ان کو پوری صورت حال بتائی اور کہا کہ بتائیں کہ طلاق واقع بھی ہوئی یا نہیں کیوں کہ مشروط تھی انہوں نے کہا میں اس کا فتویٰ نہیں دے سکتا کیوں کہ میں نہیں جانتا کہ تم جہنمی ہو یا نہیں ،کئی اور علماء سے بھی پوچھا گیا مگر ان سب نے کہا کہ ہم اس کا فتویٰ نہیں دے سکتے کیوں کہ بات مشروط ہے۔بادشاہ چاہتا تھا کہ اس قدر خوبصورت اور اچھی بیوی مجھ سے جدا نہ ہو مگر مسئلے کا پتہ نہیں چل رہا تھا کہ اب حلال بھی ہے یا نہیں۔ چنانچہ بڑا مسئلہ بنا بلکہ بادشاہ کا مسئلہ تو اور زیادہ پھیلتا ہے بالآخر ایک فقیہ کو بلایا گیا اور ان سے عرض کیا گیا کہ آپ بتائیں انہوں نے فرمایا کہ میں جواب تو دوں گا مگر اس کے لیے مجھے بادشاہ سے تنہائی میں کچھ پوچھنا پڑے گا اس نے کہا ٹھیک ہے ۔پوچھیں چنانچہ انہوں نے بادشاہ سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا آپ کی زندگی میں کبھی کوئی ایسا موقع آیا ہے کہ آپ اس وقت گناہ کرنے پر قادر ہوں مگر آپ نے اللہ کے خوف سے وہ کبیرہ گناہ چھوڑ دیا ہو۔

بادشاہ سوچنے لگا ،کچھ دیر کے بعد اس نے کہا ہاں !ایک مرتبہ ایسا واقعہ پیش آیا تھا ۔پوچھا وہ کیسے ؟وہ کہنے لگا ایک مرتبہ ،جب میں آرام کے لیے دوپہر کے وقت اپنے کمرے میں گیا تو میں نے دیکھا کہ محل میں کام کرنے والی لڑکیوں میں سے ایک بہت ہی خوب صورت لڑکی میرے کمرے میں کچھ چیزیں سنوار رہی تھی جب میں کمرے میں داخل ہوا تو میں نے اس لڑکی کو کمرے میں اکیلے پایا ۔

اس کے حسن وجمال کو دیکھ کر میرا خیال برائی کی طرف چلا گیا چنانچہ میں نے دروازے کی کنڈی لگادی اور اس کی طرف آگے بڑھا ۔وہ لڑکی ایک نیک عفیفہ اور پاکدامنہ تھی اس نے جیسے ہی دیکھا کہ بادشاہ نے کنڈی لگالی ہے اور میری طرف خاص نظر کے ساتھ قدم اٹھا رہا ہے تو وہ فوراً گھبراگئی ،جب میں اس کے قریب پہنچا تو وہ کہنے لگی ۔

اے بادشاہ اللہ سے ڈرو !جب اس نے یہ الفاظ کہے تو اللہ کا نام سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور اللہ کا جلال میرے اوپر غالب آگیا ۔چنانچہ میں نے اس لڑکی سے کہا اچھا چلی جا ،میں نے دروازہ کھولا اور اسے کمرے سے بھیج دیا ،اگر میں گناہ کرنا چاہتا تو اس لڑکی سے گناہ کر سکتا تھا مجھ سے کوئی پوچھنے والا نہیں تھا ،مگر اللہ کے جلال عظمت اور خوف کی وجہ سے میں نے اس لڑکی کو بھیج دیا اور گناہ سے باز آیا۔

اس فقیہ نے فرمایا کہ اگر تیرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا تھا تو میں فتویٰ دیتا ہوں کہ تو جنتی ہے اور تیری طلاق واقع نہیں ہوئی ہے اب دوسرے علماء نے کہا جناب !آپ کیسے فتویٰ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا جناب میں نے اپنی طرف سے فتویٰ نہیں دیا بلکہ یہ فتویٰ تو قرآن دے رہا ہے وہ حیران ہوگئے کہ قرآن نے فتویٰ کہاں دیا؟

انہوں نے جواب میں قرآن کی آیت پڑھی۔سورہ النازعات آیت 40,41 ترجمہ ’’ جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گیا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات میں پڑنے سے بچالیا تو ایسے بندے کا ٹھکانہ جنت ہوگا‘‘پھر انہوں نے بادشاہ کو مخاطب کرکے فرمایا چونکہ تم نے اللہ کے خوف کی وجہ سے گناہ کو چھوڑا تھا اس لیے میں لکھ کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالی تہمیں جنت عطا فرمادیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…