ضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا فاروقِ اعظم کی مثال فرشتوں میں جبریل امین کی طرح ہے جو خدا تعالی کا عذاب دنیا میں خدا کے دشمنوں پر لاتے ہیں اور پیغمبروں میں اسکی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی طرح ہے جنہوں نے اپنی نافرمان قوم کے بارے میں فرمایا و قال نوح رب لا تذر علی الارض من الکافرین دیارا ترجمہ: اور نوح علیہ السلام نے عرض کی اے پروردگار زمین پر کافروں کو بستا ہوا نہ چھوڑ۔
اور موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہے جنہوں نے فرعون اور فرعونیوں کے بارے میں فرمایا تھا: ربنا اطمس علی اموالہم و اشدد علی قلوبہم فلا یؤمنوا حتی یرو العذاب الالیم ترجمہ: اے مولا ان کے مالوں کو مٹا ڈال ان کے دلوں میں سختی پیدا فرما وہ ایمان نہ لائیں جب تک کہ دردناک عذاب کو نہ دیکھیں۔ اس سےفاروقِ اعظم کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے جس طرح نوح اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کفار کے حق میں سخت تھے اسی طرح آپ بھی کفار پر سخت تھے اشداء علی الکفار آپ کا خاصہ تھا۔ آپ کے فضائل بے شمار ہیں۔ حضرت عمار بن یاسر فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ ابھی ابھی میرے پاس جبریل امین آئے میں نے ان سے کہا اے جبریل آج عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرو۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال خدا تعالیٰ کے احکامات کی تبلیغ کرتے رہے اگر میں بھی اتنا عرصہ دنیا میں رہ کر فاروق اعظم کے فضائل بیان کروں تو ان کے فضائل ختم نہ ہوں۔ روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ایک مرتبہ ناگہاں ایک پہاڑ کے غار سے ایک بہت ہی خطر ناک آگ نمودار ہوئی جس نے آس پاس کی تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا جب لوگوں نے دربارِ خلافت میں فریاد کی تو امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر مبارک عطا فرمائی
اور ارشاد فرمایا کہ تم میری یہ چادر لے کر آگ کے پاس چلے جاؤ چنانچہ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ اس چادر کو لے کر آگ کے پاس چلے گئے اور جیسے ہی وہ آگ کے قریب پہنچے یکا یک وہ آگ بجھنے اور پیچھے ہٹنے لگی یہاں تک کہ وہ غار کے اندر چلی گئی اورجب یہ چادر لے کر غار کے اندر گئے تو آگ بالکل ہی بجھ گئی اور پھر کبھی ظاہر نہیں ہوئی۔



















































