ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

میں اسلام کو بیس پینس میں بیچنے لگا تھا

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

سالوں پہلے کی بات ہے ۔ ایک مولانا صاحب برطانیہ میں ایک مسجد کے امام تھے۔ روزانہ گھر سے مسجد جانے کے لئے بس پر سوار ہونا ان کا معمول بن چکا تھا۔ لندن پہنچنے کے ہفتوں بعد، لگے بندھے وقت اور ایک ہی روٹ پر بسوں میں سفر کرتے ہوئے کئی بار ایسا ہوا کہ بس بھی وہی ہوتی تھی اور بس کا ڈرائیور بھی وہی ہوتا تھا۔

ایک مرتبہ یہ امام صاحب بس میں سوار ہوئے اور ڈرائیور کو کرایہ دیا اور باقی کے پیسے لے کر ایک نشست پر جا کر بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے دیئے ہوئے باقی پیسے جیب میں ڈالنے سے قبل دیکھا تو پتا چلا کہ بیس پینس زیادہ آگئے ہیں۔ امام صاحب سوچ میں پڑ گئے اور پھر اپنے آپ سے کہا یہ بیس پینس اترتے ہوئے واپس کردیں گے کیونکہ یہ ان کا حق نہیں بنتا۔ پھر ایک سوچ یہ بھی آئی کہ اتنے تھوڑے سے پیسوں کی کون پرواہ کرتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنی ان بسوں کی کمائی سے لاکھوں روپے بھی تو کماتی ہے۔ ان تھوڑے سے پیسوں سے ان کی کمائی میں کیا فرق پڑ جائے گا۔ میں ان تھوڑے سے پیسوں کو اللہ کی طرف سے انعام سمجھ کر جیب میں ڈالتا ہوں اور چپ ہی رہتا ہوں۔ بس امام صاحب کے مطلوبہ سٹاپ پر رکی تو امام صاحب نے اترنے سے پہلے ڈرائیور کو بیس پینس واپس کرتے ہوئے کہا یہ لیجئے بیس پینس ، لگتا ہے آپ نے غلطی سے مجھے زیادہ دے دیے ہیں۔ ڈرائیور نے بیس پینس لیتے ہوئے مسکرا کر کہا کہ کیا آپ اس علاقے کی مسجد کے نئے امام ہیں؟؟؟ !جی ہاں، ڈرائیور بولا: میں بہت عرصے سے آپ کی مسجد میں آکر اسلام کے بارے میں معلومات لینا چاہ رہا تھا۔ یہ بیس پینس میں نے جان بوجھ کر زیادہ دیئے تھے تاکہ معمولی رقم کے بارے میں آپ کا رویہ پرکھ سکوں۔ امام صاحب جیسے ہی بس سے نیچے اترے، انہیں ایسا لگا جیسے ان کی ٹانگوں سے جان نکل گئی ہے۔ گرنے سے بچنے کیلئے انہوں نے کھمبے کا سہارا لیا۔ آسمان کی طرف چہرہ اُٹھا کر روتے ہوئے دعا کی یااللہ مجھے معاف کر دینا، میں اپنے اسلام کو بیس پینس میں بیچنے لگا تھا۔ کبھی بھی اپنے کسی عمل یابات کو حقیرمت سمجھیےہرچھوٹی سےچھوٹی بات یا عمل میں قدرت کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…