ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ دنبہ ہے کتا نہیں

datetime 28  فروری‬‮  2017 |

پرانے وقتوں میں لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے، انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ ہے کہ ….! “ایک دیہاتی دنبہ خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور ٹھگنے کا پروگرام بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔

وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ اس سے آکر ملا اور بولا ’’بھائی یہ کتا کہاں لے کر جارہے ہو؟ ‘‘دیہاتی نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا ’’بیوقوف تجھے نظر نہیں آرہا کہ یہ دنبہ ہے کتا نہیں‘‘۔ دیہاتی کچھ اورآگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا۔ اس نے کہا ’’یار یہ کتا تو بڑا شاندار ہے کتنے کاخریدا؟ ‘‘ دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا۔ اب دیہاتی تیز قدموں سے اپنے گھر کی جانب بڑھنے لگا مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا جس نے پروگرام کے مطابق کہا ’’جناب یہ کتا کہاں سے لیا؟ اب دیہاتی تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ کہیں واقعی کتا تو نہیں۔ اسی شش و پنج میں مبتلا وہ باقی ماندہ راستہ کاٹنے لگا۔بالآخر چوتھے ٹھگ سے ٹکراؤ ہوگیا جس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور بولا: جناب کیا اس کتے کو گھاس کھلاؤ گے؟ اب تو دیہاتی کے اوسان خطا ہو گئے اوراس کا شک یقین میں بدل گیا کہ “یہ واقعی کتا ہے۔” وہ اس دنبہ کوچھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا یوں ان چاروں ٹھگوں نے دنبہ ٹھگ لیا. آج ہمارا معاشرہ بھی دوسری نوعیت کے ٹھگوں کی یلغار میں ہے۔ یہ ٹھگ دراصل ہمارے ایمان کے ٹھگ ہیں، یہ نہیں چاہتے کہ لوگ سچائی کی راہ پر چلیں، یہ ایمانداری کے خلاف اتنی دلیلیں دیتے ہیں کہ ایک ایماندار شخص مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ ناجائز منافع خوری کو حق ثابت کر کے دوسرے لوگوں کو بھی اس قبیح فعل پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ عبادات کو رسومات بنا کر لوگوں کو خدا سے دور کرتے ہیں۔ یہ نکاح کو زنا کے مترادف قرار دے کر خاندانی نظام کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ ہوس کو محبت کا نام دے کر نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں۔

یہ مذہب کو کلچر سے تعبیر دے کر لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔ غرض یہ ٹھگ اس جدید دنیا کے ماڈرن شیطان ہیں۔ یہ ہمارے پاس اپنی قبیح شکل میں نہیں آتے بلکہ یہ سوٹ بوٹ میں ملبوس ہو کر ہمار ے ہمدرد بن کر یہ ساری کارروائی کرتے ہیں۔ اس پوری صورتحال سے بچنے کے لیے ایک صالح مومن کو دو تدابیر اختیار کرنی ہیں۔

“ایک تو یہ کہ وہ حق وباطل کے معیار کو عوام الناس کی رائے سے اخذ کرنے کی بجائے وحی اور مسلمہ اخلاقی اصولوں سے اخذ کرے۔” “دوسرا یہ کہ وہ ان شیطانوں کو پہچانے اور ان کی باتوں کو اہمیت نہ دے ورنہ اس کاحشر اس دیہاتی کی طرح ہوگا جو دنبے کو کتا سمجھ بیٹھا تھا۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…