مسافروں سے بھری ٹرین راولپنڈی سے لاہور آ رہی تھی رات کا وقت تھا. کچھ مسافر جاگ رہے تھے اور کچھ نیند میں تھے اتنے میں چلتی ٹرین میں کوئی سوار ہوا اور ڈبے میں گھس آیا۔ مسافر یہ دیکھ کر چونک اُٹھے کہ وہ نقاب پوش تھا اور اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔
فوراً ہی اس نے کڑک دار آواز میں کہا۔ خبردار کوئی حرکت نہ کرے! مسافر سکتے میں آ گئے. ڈاکو کی آواز ابھری تم لوگوں کے پاس جو کچھ ہے میرے حوالے کر دو۔ اس کا لہجہ خوفناک تھا۔ ایک کپڑا بچھا کر جلدی جلدی سبھی چیزیں گرانے لگے، آخر وہ گٹھڑی اُس کے حوالے کر دی گئی. اس نے گٹھڑی اُٹھائی دروازے پر پہنچ کو وہ ان کی طرف مُڑا اور کہا ایک ڈاکو کے خوف سے تم نے اپنا سارا سامان میرے حوالے کر دیا مگر اللہ کے ڈر سے تم غریبوں میں صدقہ خیرات و زکوۃ دینے کے بارے میں سوچتے تک نہیں یہ لو سنبھالو اپنی چیزیں یہ کہہ کر اس نے گٹھڑی ان کی طرف اچھالی اور ساتھ ہی ٹرین سے اتر کر اندھیرے میں گُم ہو گیا۔ وہ گُم ضرور ہوا مگر ٹرین میں موجود مسافروں کو ایک سوچ دے گیا.
زبان کا وزن بہت ہی ہلکا ہوتا ہے مگر بہت کم لوگ سنبھال پاتے ہیں۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہ)
اچھے لوگوں کا تمہاری زندگی میں آنا، تمہاری قسمت ہوتی ہے اور انہیں سنبھال کر رکھنا تمہارا ہنر۔(حضرت علی رضی اللہ عنہ)
تمہارا ایک رب ہے پھر بھی تم اسے یاد نہیں کرتے لیکن اس کے کتنے بندے ہیں پھر بھی تم کو نہیں بھولتا۔(حضرت علی رضی اللہ عنہ)



















































