حضور صلیﷲعلیہ وسلم کا حکم ماننے اور انکی پیروی کرنے میں صحابہ کرام کا معاملہ دیوانگی کی حدوں کو چھوتا تھا ۔ انکا کیا حال تھا !!!! . ایک بار حضور صلیﷲعلیہ وسلم کسی راستے جا رہے تھے اور حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) انکے پیچھے تھے تو حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا پاؤں ایک پتھر سے ٹکرا گیا جس سے کچھ لڑکھڑائے ۔
حضرت عمر (ر) نے اپنا پاؤں زبردستی اس پتھر سے ٹکرایا ۔ پھر یہ ہوا کہ جب بھی حضرت عمر ( رضی اللہ عنہ) اس راستے گزرتے اس پتھر سے اپنا پاؤں لازمً ٹکراتے اور فرماتے ” میں نے حضور صلیﷲعلیہ وسلم کا مبارک پاؤں اس پتھر سے ٹکراتے دیکھا ہے” !!!!!!! اس طرح ایک صحابی حضورصلیﷲعلیہ وسلم کے پیچھے جا رہے تھے ۔ راستے میں ایک درخت کی کچھ جھکی ہوئی شاخیں آئیں تو حضور صلیﷲعلیہ وسلم ان سے بچنے کے لیے کچھ جھک کر گزر گئے ۔ صحابی نے بھی یہی کیا ۔ بعد میں ہمیشہ یہی کرتے رہے ۔ حتی کہ وہ درخت کٹ گیا ۔ لیکن درخت کٹنے کے بعد بھی وہ صحابی وہاں سے گزرتے ہوئے کچھ جھک جاتے کہ “میں نے حضور صلیﷲعلیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا تھا” !!!!!!!!!!
اس طرح حضور صلیﷲعلیہ وسلم کسی حجرے یا مکان میں تشریف فرما تھے ۔ صحابہ آرہے تھے ۔ حضور صلیﷲعلیہ وسلم نے فرمایا “بیٹھ جاؤ ” ۔ تمام صحابہ اندر آچکے تاہم ایک صحابی کا ایک پاؤں چوکٹ کے اندر تھا اور ایک ابھی باہر ۔ وہ اسی حالت میں بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر بعد حضور صلیﷲعلیہ وسلم کی نظر پڑی ۔ پوچھا ” تو وہاں کیوں بیٹھا ہے ؟؟؟” صحابی نے کہا ” حضور صلیﷲعلیہ وسلم اندر آنے لگا تھا آپ کا حکم ہوا بیٹھ جاؤ ۔ تب اگلا قدم اٹھانے کی جرات نہ ہوئی” !!!! اسی طرح کسی محفل میں حضور نے ایک صحابی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو وعید فرمائی ۔ صحابی نے انگلی سے نکال کر وہیں پھینک دی ۔ کسی اور صحابی نے مشورہ دیا کہ بھئی اٹھا کر رکھ لو کسی کام آجائیگی ۔ تو صحابی نے کہا ” کہ حضور صلیﷲعلیہ وسلم کا حکم سن کر پھینکی ہے اب اٹھانے سے حیا آتی ہے ” ۔۔۔ !!!



















































