کسی مُلک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔وہ اپنی رعایا میں ہر دل عزیز تھا۔اُس کے ملک کا ہر خاص وعام اُس سے خوش تھا۔اُس کا وزیر بھی اچھا تھا۔بادشاہ روز صُبح اللہ کا نام لے کر اُٹھتا اور اپنی عوام کی بھلائی کے کامو میں لگ جاتا۔زندگی یونہی گُزر رہی تھی کہ کسی دُشمن مُلک نے حملہ کر دیا۔بدقسمتی سے بادشاہ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور بادشاہ کو قید میں ڈال دیا گیا۔ آہستہ آہستہ حالات پھر سے معمول پر آنے لگے۔آنے والا نیا بادشاہ بھی رعایا کا دل جیتنے میں لگ گیا۔زندگی پھر سے رواں دواں
دواں ہو گئی۔مگر یہاں قیدی بادشاہ اپنے شب و روز یہ سوچنے میں لگانے لگا کہ آخر اُس سے کہاں ایسے کوئی غلطی یاں گُناہ ہوا ہے جس کی سزا مل رہی ہے۔بادشاہ قید خآنے میں بھی اللہ کا شُکر ادا کر رہا تھا۔اُس کا کھانا بھی وقت پر پُہنچ جاتا تھا۔لیکن جب دُوپہر کے کھانے کا وقت ہوتا تو اُس کو شاہی چاولوں کی خُوشبو آنے لگتی۔وہ سوچتا شاید آج اُس کے لیئے شاہی کھانا آنے والا ہے مگر کھانا آتا تو وہی قیدیوں والا۔وہ سمجھ نہیں پاتا تھا کہ آخر یہ خُوشبو کہاں سے آتی ہے۔بادشاہ کو قید
میں اب آٹھ ماہ ہونے کو تھے۔ایک دن بادشاہ کوصُبح کا کھانا نہ دیا گیااور دوپہر کا کھانا بھی اُس کے مقررہ وقت پر نہ پُہنچا۔اب بادشاہ کو بھوک ستانے لگی کہ اچانک اُس کو وہی شاہی چاولوں کی خُوشبو آنے لگی۔اُس نے اپنے قیدخانے میں موجود روشن دان سے آواز لگائی کہ اگر کوئی اللہ کا بندا اُس طرف ہے تو مُجھ کو کھانے کو کچھ دے میں بھوکا ہوں۔قیدخانے کے باہر ایک آدمی تھا۔اُس نے کپڑے کے اندر کچھ کھانا باندھ کر روشن دان سے اندر پھینک دیا۔جب بادشاہ نے کپڑا کھولا تو اُس کو تعاجب ہوا کہ
یہ تو وہی شاہی چاول ہیں جس کی خُوشبو روز اُس کو آتی تھی۔بادشاہ نے فورا پوچھا کہ آپ کون ہیں?دیوار کے اُس پار سے آواز آئی کے میں اک فقیر ہوں اور روز بھیک مانگنے کے لیئے یہیں بیٹھتا ہوں۔یہ سن کر بادشاہ کو مزید حیرانگی ہوئی کیونکہ شاہی چاول ایک فقیر کے پاس کیونکر ہوسکتے ہیں?بادشاہ نے اپنے سوال کو فقیر کے سامنے رکھا۔فقیر نے بادشاہ کو بتایا کہ وہ اس وقت جس دیوار کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے اُس دیوار سے ایک نالی نکل رہی ہے جو کی محل کے شاہی باورچی خانے سے ہے۔وہ روز صُبح
جب یہاں آتا ہے تو وہ اس نالی کے آگے ایک کپڑا باندھ دیتاہے جس کی وجہ سے بہہ کر آنے والا کھانا اور چاول اس کپڑے میں رہ جاتا ہے اور پانی آگے چلا جاتا ہے۔پھر وہ اس کھانے کو گھر لے جاتا ہے۔اس میں سے چاول الگ کر کے اُن کو دھوتا ہے اور چاولوں کو سُکھا کر جمع کر لیتا ہے۔اور اس ہی طرح سے اُس نے کافی چاول جمع کر رکھے ہیں۔مگر اب وہ یہ کھانا اور جمع نہیں کر پارہا۔کیونکہ یہ کھانا تو اُس نے پہلے حُکمران کی حکومت میں جمع کیا تھا۔اُس فقیر نے
نہایت افسوس کے ساتھ بتایا کہ شاید اب کا بادشاہ اپنے ملازمین کو کھانا پھیکنے نہیں دیتا ہوگا۔یہ سُنتے ہی بادشاہ سمجھ گیا کہ آخراُس کو کس گُناہ کی سزا ملی ہے۔فقیر جب اپنی بات کہہ چُکا تو اُس نے بادشاہ سے پوچھاکہ وہ کون ہے اور قیدخانے میں کیونکر ہے?بادشاہ نے آشک بار ہوکر اس کا جواب دیا کہ وہ ایک بدنصیب بادشاہ تھا اور وہ اس وقت اپنے اللہ کی نعمت کو ضائع کرنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔اللہ کی نعمت صرف اناج ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ ہلال چیز ہے جس کے استعمال سےہم کو سکون فراہم ہوتاہے ہوا ،پانی، مکان،کپڑا، پٹرول، گیس اور بجلی یہ سب ہمارے اللہ کی نعمتیں ہیں۔جو چیز آپ کے قابل استعمال نہ ہو آپ اُس کو اپنے کسی ضرورت مند بھائی بہن کو دے دیں۔
جیسا کے آپ لوگ جانتے ہو کہ آج کل پاکستان بُہت سی مُشکلات میں ہے جس میں پانی کا اور بجلی کا بُحران سہرفرست ہیں کہیں یہ مُشکلات بھی تو ہمارے کسی کُفران نعمت کا ہی تو نتیجہ نہیں
ہردل عزیزبادشاہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
2025 میں پاکستانی انٹرنیٹ صارفین نے گوگل پر سب سے زیادہ کیا تلاش کیا؟ گوگل نے سالانہ رپورٹ جاری کردی
-
نئے سال پر عوام کو بڑا ریلیف مل گیا،پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حیران کن کمی
-
فیض حمید لوگوں کو سرد خانے میں لاشوں کے ساتھ قید کرتے تھے، جاوید چوہدری کے چونکا دینے والے انکشافات
-
بابا وانگا کی 2026 کیلئے کی جانیوالی بڑی پیشگوئیاں
-
امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ
-
بھارت کی خوبرو اداکارہ نے خودکشی کرلی؛ چونکا دینے والی وجہ سامنے آگئی
-
خاتون کیساتھ چلتی گاڑی میں اجتماعی زیادتی
-
پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ڈالر کی نئی قیمت جاری
-
2026 میں سولر پینلز کی قیمتوں با رے اہم خبر
-
یکم جنوری سے پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کا امکان
-
سال کے آخری روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی، 2025 میں سونا کتنا مہنگا ہوا؟
-
تیز ہواؤں کے ساتھ بارش اوربرف باری کی پیشگوئی
-
سال کے پہلے دن سونا سستا، قیمتوں میں اچانک بڑی کمی
-
زبانی لین دین پر زمین کی فرد نکلوانے یا انتقال پر پابندی عائد















































