جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ملا عمر

datetime 16  فروری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

میرے ایک دوست ملا عمر صاحب سے اس وقت ملے تھے جس وقت وہ کابل فتح کر چکے تھے اور اسکی افغانستان پر حکومت تھی ۔ اس ملاقات کا احوال دلچسپی سے خالی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
وہ کہتے ہیں کہ جب میں اس سے ملنے گیا تو وہ اس وقت بھی صدارتی محل استعمال نہیں کر رہے تھے اور کابل شہر سے ذرا باہر ایک ایسے حجرے میں قیام تھا جو بلکل کچا تھا ۔ اس میں ایک بہت ہی لمبا برآمدہ تھا اور اسکا دروازہ ٹین کے ڈبے جوڑ کر بنایا گیا تھا ۔۔!
وہ جب پوچھتے پوچھتے اس حجرے تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ حجرے پر صرف ایک ہی دربان کھڑا ہے جس کے پاس کلاشنکوف تھی ۔ دربان نے آمد کی غرض و غائت پوچھی ۔ اس نے ملا عمر صاحب سے ملنے کی درخواست کی ۔ وہ اس کو اندر لے گیا اور ایک چارپائی پر بیٹھا کر انتظار کرنے کا کہا کہ ملا عمر صاحب کسی کام سے گئے ہیں تھوڑی دیر میں آجائیں گے۔۔۔۔۔!!
تھوڑی دیر بعد اس نے حجرے میں ایک پھٹیچر سی موٹر سائکل پر سوار ایک شخص کو اندر آتے دیکھا جس کے ہاتھ موبل آئل یا تیل میں لتھڑے ہوئے تھے ۔ دربان جلدی سے دوڑ کر گیا اور ایک لوٹے میں پانی بھر کر لے آیا اور ہاتھ دھونے کے لیے مذکورہ شخص کو پانی ڈالنے لگا ۔ جب وہ ہاتھدھو چکا تو دربان نے مجھ سے کہا کہ ” یہ ملا عمر صاحب ہیں ”
وہ شخص بیان کرتا ہے کہ میں حیران رہ گیا تھا ۔ میں نے اس سے حیرت کے عالم میں پوچھا کہ ” امیر صاحب آپ کہاں گئے تھے اور یہ ہاتھوں پر سیاہ تیل کیسا لگا ہے ؟”
وہ کہتے ہیں کہ ملا عمر صاحب نے جواب دیا کہ دراصل میں اپنی حکومت سے تنخواہ نہیں لیتا ۔ میں انجن وغیرہ کا کام جانتا ہوں اور لوگوں کے جنریٹر وغیرہ ٹھیک کر کے اپنی مزدوری بنا لیتا ہوں ۔ یہ میں کسی کا جنریٹر ٹھیک کرنے گیا تھا ۔
یہ وہ شخص ہے جس کی ہیبت سے اس وقت پورا امریکہ اور مغرب لرزہ براندام ہے ۔ جو اس وقت دنیا کی چالیس بڑی طاقتوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہے اور اللہ نے ان سب طاقتوں کو اس کے سامنے ذلیل کر دیا ہے ۔ ایک ایسا افسانوی کردار جو اس جدید دور میں کئی سال تک ایک ملک کا بادشاہ رہا لیکن اسکی ایک بھی تصویر دستیاب نہیں ۔۔!!

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…