پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کا پلوٹونیم بم

datetime 14  دسمبر‬‮  2015 |

میں اُسے ری پروسیس کر کے پلوٹونیم میں ڈھالا جا سکے۔’’خوشاب نیو کلیئر کمپلیکس‘‘ میں اب تک تین ایٹمی ری ایکٹر تعمیر ہو چکے جبکہ مزید دو پر کام جاری ہے۔ یاد رہے‘ ۲۰۰۰ء سے ’’چشمہ نیو کلیئر پاور کمپلیکس‘‘ پر بھی کام شروع ہو گیا۔ یہ کمپلیکس بھی پانچ ایٹمی ری ایکٹروں پر مشتمل ہو گا۔ تاہم پاکستانی حکومت یہاں استعمال شدہ یورینیم سے پلوٹونیم تیار نہیں کر سکتی… کیونکہ یہ ری ایکٹر بھی بین الاقوامی ایٹمی توانائی کمیشن کے زیرمعائنہ ہیں۔

تازہ رپورٹوں کے مطابق ’’خوشاب نیو کلیئر کمپلیکس‘‘ میں چوتھا ایٹمی ری ایکٹر پایۂ تکمیل کو پہنچ چکا۔ چناںچہ وہاں عنقریب خام یورینیم کے ذریعے بجلی بنانے کا آغاز ہو جائے گا۔ یاد رہے‘ پہلے تین ری ایکٹر پچاس پچاس میگاواٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تینوں ری ایکٹر پچاس فیصد صلاحیت سے بھی کام کریں‘ تو وہ سالانہ اتنا استعمال شدہ یورینیم دے سکتے ہیں کہ اس سے ۱۸ تا ۲۱ کلو پلوٹونیم مل جائے۔ چونکہ ۵ سے ۶ کلو پلوٹونیم ایک ایٹم بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا بین الاقوامی ماہرین کا تخمینہ ہے‘ ۲۰۰۰ء سے اب تک پاکستان پلوٹونیم کے کم ازکم پچاس ایٹم بم تیار کر چکا…

نیلور اسلام آباد میں واقع نیولیبارٹریز ہر سال ۱۰ تا ۲۰ کلوپلوٹونیم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یوں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے قابل و محب وطن سائنس دانوں نے پلوٹونیم کے ذریعے بھی ایٹم بم تیار کر کے قومی دفاع مضبوط سے مضبوط تر بنا دیا۔ گو اس منصوبے سے تعلق رکھنے والے پاکستانی دنیائے سائنس و ٹیکنالوجی کے کئے ستارے گمنام رہے‘ مگر یہ انہی کی محنت‘ سعی اور عزم مصمم کا کرشمہ ہے کہ آج ہمارے دشمنوں کو ہم پہ حملہ کرنے کی جرأت نہیں ہوتی۔پلوٹونیم کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے کم طاقت والے چھوٹے ایٹم بم برق رفتار میزائلوں میں نصب کر کے انھیں جلد از جلد دشمنوں کے سر تک پہنچانا ممکن ہے۔
دوسری طرف ۱۹۹۸ء میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…