بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

اربوں روپے کی کتاب

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |


جی ہاں کسی کتاب کی قیمت کروڑوں ڈالر بھی ہو سکتی ہے؟ شاید آپ کو یقین نہ آئے لیکن دنیا میں ایسی کئی کتابیں ہیں جو کروڑوں ڈالرز میں فروخت ہوئیں۔ دنیا کی مہنگی ترین کتابوں کی فہرست میں سب سے پہلا نام ہے’’ لیسٹرکوڈیکس‘‘ (Leicester Codex) کا ہے اور یہ کتاب لیونارڈوڈاونچی کی سائنسی تحریروں پر مشتمل ہے ۔ لیونارڈو کے30 سائنسی رسالوں میں سے کوڈیکس سب سے مشہور ہے۔ پہلی بار ایک انگریز رئیس لینڈ لارڈ نامس کاک تھامس (Coke Thomas) نے 1719ء میں یہ نادر دستاویز خریدی۔ ٹامس کاک کو’’ارل آف لیسٹر‘‘ کا خطاب ملا تو اسی مناسبت سے کتاب کا نام بھی کوڈیکس لیسٹر ہوگیا۔11نومبر1994ء کو معروف سوفٹ وئیر کمپنی مائیکرو سافٹ کے مالک بل گیٹس نے نیو یارک میں فائن آرٹس آکشن ہاؤس ’’کرسٹیز‘‘ (Christie’s) سے یہ کتاب تین کروڑ آٹھ لاکھ دو ہزار پانچ سو ڈالر میں خریدی اور اس طرح کوڈیکس لیسٹر دینا کی مہنگی ترین کتاب بن گئی۔ پاکستانی روپوں میں اس کی مالیت سواتین ارب روپے کے لگ بھگ بنتی ہے۔ دوسری مہنگی ترین کتاب ’’میگنا کارٹا‘‘ ہے جسے ’’گریٹ چارٹر آف دی لبرٹیز آف انگلینڈ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتاہے۔ یہ دراصل اینجوین چارٹر ہے جسے جون1215ء میں لاطینی زبان میں جاری کیاگیا۔1219ء میں اسے مقامی فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیاگیا اور 13ویں صدی میں تبدیل شدہ ورٹرنز میں اس کا دوبارہ اجراء کیاگیا۔ 1225ء میں پہلی بار اس چارٹر کا قانون پاس ہوا۔ 1297ء کا ورڑن طویل لاطینی عنوان ٗ جسے انگریزی میں ’’ دی گریٹ چارٹر آف لبریٹز آف انگلینڈ ٗ اینڈ آف دی لبرٹیز آف فاریسٹ ‘‘ کہتے ہیں کے ساتھ اب بھی انگلینڈ اور ویلز میں قانونی کتاب کی حیثیت رکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…