بدھ‬‮ ، 20 مئی‬‮‬‮ 2026 

15افریقی ملکوں میں واگنر گروپ کے 15 ہزار ارکان کا پراسرار کردار

datetime 27  جون‬‮  2023 |

ماسکو (این این آئی)روس میں ”واگنر” گروپ کے بانی ایوگنی پریگوزن کی جانب سے کی گئی نحیف بغاوت کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔ اس بغاوت کے اثرات کا انحصار صرف روسی اور یوکرینی ماحول تک محدود نہیں رہ سکتا بلکہ راکھ کے نیچے بھڑکنے والی یہ آگ براعظم افریقہ کے کئی ملکوں تک وسیع ہو سکتی ہے۔افریقی ممالک پریگوزن اور روسی اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں پیش رفت سے اپنے آپ کو دوسروں سے زیادہ فکر مند محسوس کر رہے ہیں ۔

خاص طور پر جب روس اور یوکرین سے واگنر گروپ کو سیاسی اور فوجی میدان سے نکالنے کی توقعات ہیں تو افریقہ میں واگنر کی بڑی فوجی اور اقتصادی موجودگی سے تشویش بڑھ رہی ہے۔مغربی انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ اس گروپ سے وابستہ 15 ہزار سے زیادہ جنگجو ہیں جو لیبیا، سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ، مالی، مڈ گاسکر اور موزمبیق میں کھلے عام موجود ہیں۔ واگنر کے ارکان کا پھیلاؤ برکینا فاسو، گنی، گنی بساؤ، کانگو، انگولا، زمبابوے اور چاڈ میں غیر یقینی ہے۔پچھلی دہائی کے وسط سے سیاسی اور سیکورٹی کے حوالے سے ہنگامہ خیز افریقی ملکوں میں واگنر گروپ کی موجودگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وسطی افریقی جمہوریہ میں، گروپ سے وابستہ تقریباً دو ہزار کارکن خانہ جنگی میں حکومتی افواج کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ لڑائی وہاں 10 سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ جمہوریہ مالی میں واگنر کے تقریباً 3 ہزار افراد موجود ہیں۔ مالی کے شمالی علاقے بحرانوں کا شکار ہیں۔مغربی رپورٹس میں کئی افریقی ملکوں میں کام کرنے والے روسی واگنر گروپ کے ہزاروں کرائے کے فوجیوں کی موجودگی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں ایک ہزار 890 روسی ٹرینرز وہاں جاری خانہ جنگی میں حکومتی افواج کی مدد کر رہے ہیں۔ان ملکوں کی وابستگی کے باوجود جن میں واگنر گروپ پھیلا ہوا ہے۔ روس میں اس مسلح بغاوت کے حوالے سے افریقی ان ممالک کی حکومتیں اپنی حکمرانی کے استحکام کے بارے میں فکر مند ہیں۔ افریقی ملکوں کے لیے اس گروہ کے عناصر جن کا مستقبل کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے کی قسمت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ اس گروپ کے افراد نے قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری کی ہے۔

واگنر گروپ براعظم افریقہ کے ان ملکوں میں سونا، ہیرے، یورینیم اور تیل کی دریافت کا کام کرنا چاہتا ہے۔بین الاقوامی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ واگنر گروپ کی سرگرمیاں ان علاقوں میں ہیں جو سیکیورٹی سے بالاتر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بنگوئی میں حکومت نے ایک ذیلی کمپنی کو ایک لاکھ 87 ہزار ہیٹکٹر کے رقبے بغیر کسی پابندی کے درخت کاٹنے کی اجازت دی ہے۔وسطی افریقی جمہوریہ میں ” نداسیما” سونے کی کان سے متعلق بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا کی کان کنی کمپنی سے مڈ گاسکر کی ایک کمپنی کے حق میں رعایت واپس لے لی گئی ہے۔افریقہ رپورٹ کی طرف سے کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ واگنر گروپ نے کیمرون میں ڈوالاa کی بندرگاہ کے ذریعے بھاری کان کنی کا سامان کس طرح درآمد کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…