جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی احتجاج، شرپسند افغان باشندوں کے اعترافی بیانات سامنے آ گئے

datetime 15  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)پی ٹی آئی احتجاج میں شامل افغان باشندوں کے اعترافی بیانات سامنے آگئے، عمیر کو ایم پی اے فدا نے جبکہ عصمت اللّٰہ کو ایم پی اے آصف علی خان نے پیسے دیے تھے۔کابل کے رہائشی افغان شرپسند عمیر نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ توڑ پھوڑ کیلئے پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے پیسے دیتے تھے۔

افغان شہری عمیر نے بتایا کہ وہ پشاور میں تہکال پایان میں رہتا ہے اور جب عمران خان گرفتار ہوئے تو علاقے کے مشران اور ایم پی اے فدا نے احتجاج کے لیے پیسے دیے۔عمیر نے کہا کہ پیسے دیے گئے احتجاج میں شامل ہو کر توڑ پھوڑ کروں، میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں، معافی دی جائے آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا۔دوسری جانب پشاور کے پرتشدد احتجاج میں قومی املاک کو نقصان پہنچانے اور لوٹ مار میں ملوث افغان شرپسند عصمت اللّٰہ نے بتایا کہ وہ مزار شریف کا رہائشی ہے اور پاکستان میں لطیف آباد پشاور میں رہائش پذیر ہے۔

عصمت اللّٰہ نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف کے سابق رکن اسمبلی نے مبینہ طور پر اس کو رقم دے کر خیبر پختونخوا اسمبلی چوک میں توڑ پھوڑ کیلئے بھیجا تھا۔تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے آصف خان نے افغانی نوجوان کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغان شہری کو جانتے ہیں نہ ہی اس نوجوان کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق ہے بلکہ ان کی جماعت اور وہ پْرتشدد احتجاج کے حامی ہی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…