جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

اگر عدالت سے گرفتار کرنا غلط ہے تو کیا ایک مجرم کو عدالت کو اپنی پناہ گاہ بنانے کی اجازت دینا بھی کوئی نیا قانون ہے؟ ‘مریم نواز کا ردعمل

datetime 12  مئی‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن)کی سینئر نائب صدر اور مرکزی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا ہے کہ چیف جسٹس صاحب،آپ اب عدلیہ ہی نہیں، آئین و قانون نظام انصاف اور ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس ہونے کا مطلب ریاست کو اس شخص کی غلامی میں دینا نہیں

جس نے اپنے پالتو غنڈوں کے ذریعے قومی وقار اور ملکی دفاع کی ہر علامت کو جلا کر راکھ کردیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے شخص کو کسی بھی مقدمے میں گرفتاری سے روکنا، اسے شاہی مہمان بنا کر رکھنا، اس کے نخرے اٹھانا ہر پاکستانی کے علاوہ ان شہیدوں اور غازیوں کی توہین ہے جن کی ہر نشانی پر حملہ کیا گیا۔مریم نواز نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب،آپ اب عدلیہ ہی نہیں، آئین و قانون نظام انصاف اور ملکی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ ملکی تقدیر سے کھیلنے والے ایک دہشتگر کے سہولت کار بننے کے بعد آپ اپنا وقار کھو چکے ہیں۔آپ اپنی کرسی کو عمران کی سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں تو اب سیاسی رد عمل کے لئے تیار رہیں۔انہوں نے کہا کہ فتنہ گرفتاری کے ڈر سے عدالت میں چھپا بیٹھا ہے، اگر عدالت سے گرفتار کرنا غلط ہے تو کیا ایک مجرم کو عدالت کو اپنی پناہ گاہ بنانے کی اجازت دینا بھی کوئی نیا قانون ہے؟ اس دہرے معیار پر شرم آتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…