جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

امیرمقام اور مرتضی جاوید کو پارٹی عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا گیا

datetime 5  مئی‬‮  2023 |

پشاور (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن )خیبرپختونخواکے نظریاتی کارکنوں نے پارٹی کیصوبائی صدر انجینئرامیر مقام اور جنرل سیکرٹری مرتضیٰ جاوید عباسی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کی مرکزی قیادت سے دونوں عہدیداروں کو ہٹانے کا مطالبہ کر دیا۔مسلم لیگ( ن) خیبر پختونخوا کے نظریاتی ورکرز کا اجلاس جمعہ کے روز پشاور میں غلام حیدر خان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا ،

اجلاس سے سابق وزیراعلیٰ کے پی سردار مہتاب عباسی، سابق گورنرکے پی اقبال ظفر جھگڑا ، سابق صوبائی وزیر اطلاعات کے پی عبدالسبحان خان ، ارباب خضرحیات ، فرید خان مفکر، ایثال ، ڈاکٹر ظاہر شاہ ، ارباب غلام حیدر خان ، سبز علی خان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کی صوبائی قیادت ون مین شو کا کردار ادا کر رہی ہے اور پارٹی کا وجود صوبہ سے ختم کر دیا گیا ہے

مقررین نے کہا کہ امیر مقام پارٹی پر قبضہ جما کر امیر مقام گروپ کا قیام عمل میں لا چکے ہیں جس طرح جماعت اسلامی اور جنرل مشرف کو دھوکہ دیکر نوازشریف کی گود میں بیٹھ گئے تھے بہت جلد یہاں سے بھی چھلانگ لگا کر کسی اور کی گود میں بیٹھ جائیں گے لیکن پارٹی کے لئے بیش بہا قربانیاں دینے والے کارکن کسی صورت مشرف کے بھائی کو پارٹی ہائی جیک نہیں کرنے دینگے اور نہ ہی فرد واحد کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ من مانی فیصلے کر کے پارٹی کو نقصان پہنچائے ،

مقررین نے کہا کہ پارٹی آئین کی رو سے صوبائی صدر اور کابینہ کی میعاد چار سال ہوتی ہے جس کے بعد انٹرا پارٹی الیکشن کے زریعے صوبائی قیادت کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے جبکہ امیر مقام اور اس کی کابینہ گذشتہ کئی سالوں سے غیر آئینی طریقے سے پارٹی پر قابض ہے۔مقررین نے کہا کہ امیرمقام کا انتخاب کسی نٹرا پارٹی انتخاب کے زریعے نہیں ہوا ہے بلکہ میاں نوازشریف نے ڈائریکٹ ان کا انتخاب کیا تھا کہ وہ پارٹی کو صوبہ میں فعال کروانے میں اپنا کردار ادا کرینگے مگر افسوس کہ پارٹی کو صوبہ میں فعال کرنے کی بجائے امیر مقام اور اس کے ٹولے نے خود کو فعال کر دیا اور اربوں روپے کی کرپشن کر کے صرف اپنی تجوریاں بھریں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

مقررین نے کہا کہ مسلم لیگ ن خیبر پختونخوا میں ایک بڑی پارٹی تھی لیکن امیر مقام نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا ہے اور پارٹی کا وجود تک ختم کر دیا ہے جس کا خمیازہ پارٹی کو آنے والے انتخابات میں اٹھانا پڑے گا۔مقررین نے صوبائی سطح کے انتخابات کروانے کا مطالبہ بھی کر دیا بصورت دیگر نظریاتی کارکن ازخود آرگنائزنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لا کر انٹرا پارٹی انتخابات کروا دینگے کیونکہ پارٹی کے نظریاتی کارکن کسی صورت امیر مقام اور اس کی کٹھ پتلی کابینہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں جبکہ نظریاتی کارکنوں نے میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…