جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

عالمی ادارہ صحت کا 3 سال بعد کووڈ 19 کی وبا کیلئے نافذ عالمی ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان

datetime 5  مئی‬‮  2023 |

جنیوا (این این آئی)عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)نے 3 سال کے بعد کووڈ 19 کی وبا کے لیے عوامی صحت کے لیے عالمی ایمرجنسی کی حیثیت ختم کر دی ہے۔عالمی ادارے کی جانب سے یہ اعلان 5 مئی کو کیا گیا۔ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کمیٹی کا اجلاس 4 مئی کو ہوا تھا جس میں عالمی ایمرجنسی ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی، جس کے بعد جمعے کو عالمی ادارے کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایک سال سے زائد عرصے سے کووڈ کی وبا کی شدت میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر ویکسینیشن اور کووڈ سے بیمار ہونے کے باعث لوگوں میں اس بیماری کے خلاف مدافعت بڑھی جبکہ اموات کی شرح گھٹ گئی اور طبی نظام پر دبا کم ہوا۔انہوں نے کہاکہ اس رجحان سے دنیا کے بیشتر ممالک کو کووڈ 19 کی وبا سے قبل کی زندگی میں لوٹنے کا موقع ملا۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ اسی کو دیکھتے ہوئے میں اعلان کرتا ہوں کہ کووڈ 19 کی وبا اب عالمی ایمرجنسی نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ عالمی ایمرجنسی ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کووڈ سے عالمی صحت کو لاحق خطرہ ہوگیا، گزشتہ ہفتے یہ بیماری ہر 3 منٹ میں ایک موت کا باعث بنی، یہ وہ اموات ہیں جن کا ہمیں علم ہوا۔خیال رہے کہ ڈبلیو ایچ او نے 30 جنوری 2020 کو عالمی ایمرجنسی قرار دیا تھا جب سے اس کی حیثیت برقرار تھی۔اس وبا کے باعث لگ بھگ 70 لاکھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ کروڑوں افراد کووڈ سے متاثر ہوئے۔

عالمی ادارہ صحت کے اس اعلان سے پہلے ہی بیشتر ممالک میں کووڈ سے متعلق پالیسیوں کو نرم کر دیا تھا اور وائرس کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرنے والی بیشتر پابندیوں کو بھی ختم کر دیا تھا تاہم ڈبلیو ایچ او کی جانب سے باضابطہ اعلان اس بیماری کے حوالے سے اہم ہے، کیونکہ اب دیگر ممالک بھی کووڈ کی وبا کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کو نرم کر سکتے ہیں۔عالمی ادارے کی جانب سے 3 مئی کو کووڈ کی روک تھام کے لیے اپ ڈیٹڈ پلان بھی جاری کیا گیا تھا جس میں ممالک کو آئندہ 2 برس کے دوران کووڈ 19 کی وبا کے حوالے سے ہدایات دی گئی تھیں۔ان ہدایات کا مقصد یہ تھا کہ اب طویل المعیاد بنیادوں پر اس وبائی مرض کی روک تھام پر توجہ مرکوز کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…