جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

درجنوں ممالک میں مہنگائی کم پاکستان میں مسلسل کیوں بڑھ رہی ہے ؟ پاکستان اکانومی واچ نے مہنگائی کی بنیادی وجوہات کسے قرار دے دیا

datetime 2  مئی‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسیف الدین شیخ نے کہا ہے کہ درجنوں ممالک میں مہنگائی کم ہو رہی ہے مگر پاکستان میں مسلسل بڑھ رہی ہے اور اس میں کمی کا کوئی امکان نہیں،مہنگائی بڑھنے کی بنیادی وجوہات میں ناقص طرز حکمرانی اور اشرافیہ نوازی شامل ہیں،تمام وسائل اشرافیہ کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جا رہے ہیں

اس لئے غربت بڑھ رہی ہے اور متوسط طبقہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے،ملک میں جس چیز کی کمی ہوتی ہے اسکی برامد شروع کر دی جاتی ہے جس سے برامدکنندگان کو فائدہ پہنچتا ہے مگر عوام پر بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔سیف الدین شیخ نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت ملک میں دیگر اشیاء کے ساتھ آٹے گوشت چاول مرغی اور چینی کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے کیونکہ ان اشیاء کونہ صرف برامد کیا جا رہا ہے بلکہ انکی سمگلنگ بھی عروج پر ہے۔اعلیٰ حکام کی جانب سے منافع خور مافیا کے خلاف کاروائیوں کے بیانات عوام کو اطمینان کا لالی پاپ کھلانے کے لئے ہوتے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔انھوں نے کہا کہ تمام اہم پالیسیاں اشرافیہ کے مفادات کو زہن میں رکھ کر بنائی جا رہی ہیں جس سے عوام کے مصائب میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا ہے۔ اشرافیہ کی خود غرضی اور ضروری اصلاحات کو ٹالنے کی وجہ سے معیشت ترقی نہیں کر سکی ہے اور غربت میں کمی کے بجائے اس میں اضافہ ہورہا ہے۔سیاستدان اور دیگر طاقتور حلقے ملکی وسائل لوٹنا اپنا فرض اور ٹیکس ادا کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں جبکہ بہت سے بزنس مین بھی بین الاقوامی منڈی میں مسابقت کے بجائے مختلف حیلے بہانوں سے سبسڈی اور پیکجز کے حصول کو ترجیح دیتے ہیں اور جب انکے پاس کالے دھن کی بہتات ہو جاتی ہے تو حکومت سے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کروا لیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…