ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پیمرا کسی قابل اعتراض مواد پر از خود نوٹس لے کر کارروائی نہیں کرسکتا،سپریم کورٹ

datetime 12  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا ہے کہ پیمرا کسی بھی قابل اعتراض مواد پر از خود نوٹس لے کر کارروائی نہیں کرسکتا،پیمرا از خود نوٹس لینے سے پہلے بھی کونسل آف کمپلینٹس کی رائے کا پابند ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے نجی چینل کے ڈرامے پر پابندی کے خلاف درخواست کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

19صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا۔فیصلے کے مطابق الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے ڈرامے کو بھی آرٹیکل 19 اے کا تحفظ حاصل ہے، کسی بھی قابل اعتراض مواد پر پابندی پیمرا کی کونسل آف کمپلینٹس کی رائے سے مشروط ہے، کونسل آف کمپلینٹس کی رائے کے بغیر پیمرا خود سے ٹی وی چینلز پر نشتر کردہ مواد پر پابندی کا اختیار نہیں رکھتا۔فیصلے کے مطابق پیمرا آرڈیننس کا سیکشن 27 کسی بھی پروگرام یا اشتہار کے خلاف پیمرا کوازخود کارروائی کی اجازت نہیں دیتا، پیمرا اپنی کونسل آف کمپلینٹس کے فیصلے کو نظر انداز کر کے آرڈر نہیں کر سکتا۔سپریم کورٹ فیصلے کے مطابق ٹی وی ڈرامے یا پروگرام کے مواد کا جائزہ پیمرا کونسل آف کمپلینٹس کو ہی لینا چاہیے۔ پیمرا کونسل آف کمپلینٹس کے ممبران کا تقرر واضح اور شفاف طریقہ کار کے تحت ہونا چاہیے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹی وی ڈراموں میں اگر کوئی قابل اعتراض یا غیر اخلاقی سین ہو تو صرف اس حصے کو نشر کرنے سے روکا جا سکتا۔ سندھ ہائیکورٹ نے ڈرامہ نشر کرنے پر پابندی کے پیمرا کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا، سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا حکم برقرار رکھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…