ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

جونیئر افسر کی ترقی پر سپرسیڈ ہونے والے برطانوی میجر جنرل کی خودکشی

datetime 1  اپریل‬‮  2023 |

لندن (این این آئی)برطانوی رائل میرینز کے سابق سربراہ میجر جنرل میٹ ہومز نے سپرسیڈ ہونے کے دبا ئومیں خودکشی کی تھی، انکوائری کمیشن کی رپورٹ جاری ہوگئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق میٹ ہومز کا پوسٹ مارٹم کرنے والے جیسن پیگ نے انکوائری رپورٹ میں کہا کہ میجر جنرل ہومز عہدے سے ہٹائے جانے کی وجہ سے ذہنی دبائو میں تھے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ

جنرل ہومز افغانستان سے برطانوی فوج کے انخلا پر بھی فکرمند تھے۔جنرل ہومز کے جونیئر افسر کو رائل میرینز کا سربراہ بنا دیا گیا تھا جس پر آنجہانی جنرل ناخوش تھے، وہ فکرمند تھے کہ میرینز کی سربراہی خوش اسلوبی سے کس طرح ممکن ہوگی۔جیسن پیگ کے مطابق جنرل ہومز سے کمانڈنٹ جنرل کا عہدہ واپس لیا گیا جس کی وجہ سے وہ بہت مایوسی اور غصے میں تھے۔یاد رہے کہ میجر جنرل میٹ ہومز کی لاش ہیمپشائر سے 2 اکتوبر 2021 کو برآمد کی گئی تھی۔ان کی اہلیہ لی ہومز نے انکوائری کمیشن کو بتایا کہ 2021 کی بہار میں انہیں فوج سے حکم ملا کہ یا تو وہ تنظیم نو پر آمادہ ہوجائیں یا استعفی دیں، جنرل ہومز کو یہ بات خلاف عزت محسوس ہوئی۔جنرل کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکی اور برطانوی فوج افغانستان سے انخلا کر رہی تھی، جنرل ہومز اس معاملے پر بہت سوچ بچار کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہماری شادی خراب ہوئی، 14 سمتبر 2021 کو وہ بستر پر بندوق لیے بیٹھے تھے، بعد ازاں پولیس نے ان سے ہتھیار ضبط کرلیا تھا۔رائل میرینز ایسوسی ایشن کے چیف ایگزیکٹیو جوناتھن بال نے کہا کہ میجر جنرل ہومز امریکی اور برطانوی انخلا کے بعد افغان فوجی افسران کی سیکیورٹی سے متعلق فکرمند تھے۔انہوں نے کہا کہ جنرل ہومز کو افغان فوجی افسران اور ان کے خاندانوں کی سلامتی کی فکر تھی، وہ اس بات کو اپنی ناکامی سمجھتے تھے کہ افغان فوجیوں کو ملک سے باہر نکلنے میں مدد نہیں کرسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…