ایمان دار تاجر بروز قیامت انبیاء کے ساتھ صدیقین کے صف میں کھڑا ہوگا، مولانا طارق جمیل

16  مارچ‬‮  2023

بہاولنگر(این این آئی)معروف عالم دین مبلغ مولانا طارق جمیل نے کہا ہے کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سنایا کہ ایمان دار تاجر بروز قیامت انبیاء کے ساتھ صدیقین کے صف میں کھڑا ہوگا،ان خیالات کا انہوں نے نے ہارون آباد میں پاکستان مسلم لیگ ضیاء کے مرکزی صدر و چئیرمین میونسپل کمیٹی

حاجی محمد یاسین مرحوم تعزیتی ریفرنس کے حوالہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ مرحوم حاجی یاسین اور انکی ٹیم سٹاف نے احیاء فری دستر خوان، تعمیر جنازہ گاہ،مفت آپریشن و ادویات فراہمی جیسے فلاحی کام جاری رکھ کر دْکھی انسانیت کے دل جیت رہے ہیں،مولانا طارق جمیل نیاس موقع پرفرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سنایا کہ ایمان دار تاجر بروز قیامت انبیاء کے ساتھ صدیقین کے صف میں کھڑا ہوگا،سچ بول کر اور رزق حلال پر عمل کرکے ہم اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل روشن،اور دوزخ کے عذاب سے نجات دائمی کا اعزاز پا سکتے ہیں،روحانی پیشوا مولانا طارق جمیل نے اجتماع میں واضح کیا کہ اہل بیت اطہار اور صحابہ کرام رضوان اللہ کی تعلیمات کو حرز جاں بنائیں،انہوں نے مزید کہا کہ اگر اچھی آخرت کی تمنا رکھتے ہو تو مخلوق کے ساتھ بہترین طرز عمل اپنائیں ضرورت اس امر کی ہے خاندان کے مقتدر افراد محروم مستحقین کی مراعات میں کمی نہیں آنے دیں۔آخر میں مرحوم حاجی محمد یسین کے بلند درجات کے لیے خصوصی دعا کرائی گئی۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…